ہومتازہ ترینٹوکیو میں تاکائیچی حکومت کی خطرناک پالیسیوں کے خلاف بڑا احتجاج، آن...

ٹوکیو میں تاکائیچی حکومت کی خطرناک پالیسیوں کے خلاف بڑا احتجاج، آن لائن بھی بھرپور شرکت

ٹوکیو (شِنہوا) جاپان کے وزیراعظم سنائی تاکائیچی کی حکومت کی جانب سے حالیہ عرصے میں متعارف کرائی جانے والی متعدد خطرناک پالیسیوں اور بلوں کے خلاف بڑی تعداد میں جاپانی شہری ٹوکیو میں قومی پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے جمع ہوئے۔
احتجاج کے منتظمین کے مطابق تقریباً 27 ہزار افراد نے موقع پر احتجاج میں شرکت کی، جبکہ لگ بھگ ایک لاکھ 10 ہزار افراد آن لائن اس میں شریک ہوئے۔
مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت کے اطراف فٹ پاتھوں پر کئی کلومیٹر طویل قطاریں بنائیں اور "تاکائیچی کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات بند کرو” اور "جاپان کو ہمیشہ طاقت کے استعمال سے دستبردار رہنا چاہیے” جیسے نعرے لگائے۔
مظاہرین نے جاپان کے آئین کے آرٹیکل 9 کو بھی اجتماعی طور پر بلند آواز سے پڑھا تاکہ تاکائیچی حکومت کی ان پالیسیوں کی مخالفت کی جا سکے جنہیں وسیع پیمانے پر جنگ کے خطرے میں اضافے کا سبب سمجھا جا رہا ہے اور جو عوامی مخالفت کے باوجود آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

مظاہرین میں شامل نوریکو کاناموری نے شِنہوا کو بتایا کہ تاکائیچی حکومت کے حالیہ اقدامات دراصل جنگ کی تیاری کے مترادف ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ عوامی خدشات کو صرف یہ کہہ کر مسترد کر دیتی ہیں کہ "جاپان جنگ میں نہیں ہے”، اور اس ردعمل کو اشتعال انگیز قرار دیا۔
کاناموری نے کہا کہ جب جاپان میں بہت سے لوگ تیل کے جاری عالمی بحران کے باعث مشکلات کا شکار ہیں تو حکومت اس مسئلے سے فعال انداز میں نمٹنے کے بجائے "قومی انٹیلی جنس کونسل” جیسے ادارے قائم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔
ایک اور شخص ہوسوئی نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلے کر رہی ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ "وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، اس سے جاپان بتدریج جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔”

فروری میں ہونے والے ایوان نمائندگان کے انتخابات کے بعد حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) نے ایوان زیریں میں اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں اور مختلف سماجی حلقوں کے احتجاج کے باوجود متعدد قوانین منظور کرائے، جن میں "قومی انٹیلی جنس کونسل” کے قیام سے متعلق قانون بھی شامل ہے۔

ایل ڈی پی نے رواں سال کے آخر میں ملک کی تین اہم سکیورٹی دستاویزات میں مجوزہ ترامیم کے تحت جاپان کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافے کی راہ ہموار کرنے کے لئے دفاعی اخراجات بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ان پیش رفتوں کے باعث جاپان میں ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی استعداد کے حوالے سے عوامی خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں