ہومانٹرنیشنلانٹارکٹیکا کی خون نما آبشار کا نیا راز سامنے آ گیا

انٹارکٹیکا کی خون نما آبشار کا نیا راز سامنے آ گیا

انٹارکٹیکا (لارڈ میڈیا): انٹارکٹیکا کی معروف خون نما آبشار کا نیا راز سامنے آیا ہے۔ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اس آبشار کا پانی آئرن اور دیگر منرلز کی زائد مقدار کے باعث سرخ ہوتا ہے۔ جب یہ پانی ہوا میں موجود آکسیجن کے ساتھ ملتا ہے تو اس کا رنگ خون جیسا سرخ ہو جاتا ہے۔ یہ آبشار 1911 میں برطانوی مہم جو تھامس گریفتھ ٹیلر نے دریافت کی تھی۔

نئی تحقیق کے مطابق، گلیشیئر کے نیچے سرنگوں کا ایک خفیہ نیٹ ورک موجود ہے جہاں سے آئرن اور دیگر منرلز پانی میں شامل ہو کر اسے سرخ بناتے ہیں۔ اس نیٹ ورک کے باعث پانی سال بھر بہتا رہتا ہے کیونکہ نمکیات کی موجودگی سرنگوں کو کھلا رکھتی ہے اور برف کو گرم رکھتی ہے تاکہ پانی منجمد نہ ہو۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت ہوا کہ پانی 300 میٹر لمبے راستے سے گزر کر گلیشیئر کے قلب تک پہنچتا ہے، جہاں لاکھوں سال سے موجود سمندری پانی کا ذخیرہ پھنسا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، گلیشیئر کی گہرائی میں جراثیموں کی ایک کالونی بھی ملی ہے جو بغیر روشنی یا آکسیجن کے زندہ رہتی ہے۔

محققین کے مطابق، ٹیلر گلیشیئر دنیا کا سب سے زیادہ ٹھنڈا گلیشیئر ہے جہاں مسلسل پانی بہتا رہتا ہے، مگر آبشار کا پانی وقفے وقفے سے بہتا ہے اور اس کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں