لاس اینجلس (لارڈ میڈیا): نیٹ فلکس کی مقبول جاسوسی فلم سیریز ‘اینولا ہومز’ کا تیسرا حصہ ‘اینولا ہومز 3’ ریلیز کر دیا گیا ہے، جس میں ملی بوبی براؤن ایک بار پھر ذہین نوجوان جاسوس اینولا ہومز کے کردار میں نظر آئی ہیں۔ اس بار کہانی مزید جذباتی اور پراسرار موڑ لیے ہوئے ہے، جہاں اینولا کو اپنی ذاتی زندگی اور خاندان سے جڑے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فلم میں لوئس پارٹرج لارڈ ٹیوکس بری جبکہ ہنری کیول شہرۂ آفاق جاسوس شرلاک ہومز کے روپ میں نظر آ رہے ہیں۔ کہانی برطانیہ سے مالٹا تک پھیلتی ہے، جہاں رومانس، خاندانی کشمکش اور پیچیدہ معمہ ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔
فلم کا آغاز اینولا اور لارڈ ٹیوکس بری کی شادی کی تیاریوں سے ہوتا ہے۔ لیکن عین شادی کے موقع پر شرلاک ہومز کے پراسرار اغوا کی خبر سب کچھ بدل دیتی ہے، اینولا کو اپنی شادی مؤخر کر کے اہم کیس کی تحقیقات شروع کرنا پڑتی ہیں۔
ملی بوبی براؤن نے کہا کہ اینولا کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی اور اس کردار میں واپسی ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ انہوں نے ‘اسٹرینجر تھنگز’ میں بھی کردار کو برسوں نبھایا، اس لیے پرانے کرداروں میں دوبارہ جان ڈالنا ان کے لیے فطری اور دلچسپ محسوس ہوتا ہے۔
اینولا ایک مضبوط، نڈر اور مہم جو کردار ہے، اس کی خامیاں ہی اسے حقیقت سے قریب اور ناظرین کے لیے متاثرکن بناتی ہیں۔ تین فلموں کے سفر میں وہ ایک باصلاحیت جاسوس بن چکی ہیں۔
لوئس پارٹرج نے بتایا کہ ان کے کردار میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب وہ ہاؤس آف لارڈز کے بااثر رکن ہیں، اور اینولا کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
ہنری کیول کی شرلاک ہومز کے طور پر واپسی بھی فلم کی اہم کشش ہے، تاہم اس بار کہانی کا مرکز اینولا ہیں، جنہیں اپنے بھائی کو تلاش کرنے کے لیے اپنی تمام تر ذہانت پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
فلم میں جاسوسی، تاریخی پس منظر، خاندانی رشتوں، خودمختاری اور ذاتی شناخت جیسے موضوعات کو پیش کیا گیا ہے۔ لندن کے ساتھ ساتھ مالٹا کے خوبصورت مقامات بھی کہانی کا حصہ ہیں۔


