اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازم کی ترقی کے لیے کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے تحریر کردہ 16 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ کنٹریکٹ سروس کو سرکاری ملازم کی تعریف میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے کے مطابق کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس میں شمار کرنا قانون کی غلط تشریح ہوگی اور اس سے کنٹریکٹ ملازمین کو سول سرونٹ کا درجہ دینا مترادف ہوگا۔
مزید برآں، فیصلے میں کہا گیا کہ اس اقدام سے وفاقی اور صوبائی سول سرونٹس ایکٹس میں موجود شقوں کو بے اثر کر دیا جائے گا۔ سندھ سول سرونٹس رولز 1975 کے مطابق سول سرونٹ کی سنیارٹی کا شمار ریگولر تقرر کی تاریخ سے کیا جاتا ہے اور کسی تقرر کو ماضی بعید سے ریگولر نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار محمد سلیم شیخ نے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ اُس کی کنٹریکٹ سروس کو بھی ترقی کے لیے شمار کیا جائے۔ تاہم سپریم کورٹ نے سندھ سروس ٹربیونل کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔


