لاہور (لارڈ میڈیا): لاہور ہائی کورٹ میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کے غیر معمولی منافع کی تحقیقات سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جوڈیشل پینل ایکٹوازم کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام مہنگے داموں پٹرول خریدتے رہے جبکہ آئل کمپنیاں ریکارڈ منافع کما رہی ہیں۔
درخواست کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل کا منافع 149 فیصد، اٹک پیٹرولیم کا 92 فیصد جبکہ پاکستان ریفائنری کا منافع 293 ملین روپے سے بڑھ کر 25.49 ارب روپے، یعنی 8600 فیصد سے زائد ہو گیا۔ اسی طرح نیشنل ریفائنری خسارے سے نکل کر 7.30 ارب روپے منافع میں آ گئی۔ پی ایس او نے اپنے ریکارڈ منافع کی وجہ علاقائی جنگی صورتحال کو قرار دیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ مہنگائی کا بوجھ عوام نے برداشت کیا جبکہ فائدہ حکومت اور آئل کمپنیوں کو ملا۔ حکومت کو صرف پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں تقریباً 1.7 ٹریلین روپے آمدن متوقع ہے، جس سے غیر منصفانہ مالی نظام قائم ہوا ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ آئل کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کا مکمل آڈٹ ریکارڈ طلب کیا جائے اور غیر معمولی منافع کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائیں۔ عوام کو ریلیف دیے بغیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پی ڈی ایل میں اضافے سے روکا جائے اور ونڈ فال پرافٹ ریگولیشن نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔


