نیویارک (لارڈ میڈیا): سائنس دانوں نے پہلی بار مصنوعی خلیہ تخلیق کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قدرتی خلیوں کی طرح خوراک کھا سکتا ہے، بڑا ہو سکتا ہے اور اپنی نسل بھی بڑھا سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف منیسوٹا کی پروفیسر کیٹ ایڈامالا اور ان کی ٹیم نے مختلف کیمیکلز اور مالیکیولز کو جوڑ کر یہ خلیہ تیار کیا ہے جو بیکٹیریا جیسا دکھائی دیتا ہے۔
پروفیسر ایڈامالا نے کہا ہے کہ اس خلیے میں شامل تمام کیمیکلز کی مقدار کا علم ہے اور ہم اپنی مرضی سے اس میں تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں اس طریقے سے کینسر جیسی بیماریوں کا علاج اور نئی دوائیاں بنانا آسان ہوگا۔
لندن کے امپیریل کالج کے ماہر یوول ایلانی نے اس تحقیق کو قدرتی اصولوں سے آزاد نئی چیزیں بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمیکلز کو زندگی کی شکل میں جوڑنے کی کوشش میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
اس مصنوعی خلیے کو اسپڈ سیل کا نام دیا گیا ہے جو تقریباً 150 سے 200 مالیکیولز پر مشتمل ہے۔ یہ خلیہ ہر 12 گھنٹے میں تقسیم ہوتا ہے جبکہ قدرتی بیکٹیریا تیز تر تقسیم ہوتے ہیں۔
تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی خلیہ مکمل نظام نہیں رکھتا اور یہ تجربہ گاہ میں دی گئی خوراک پر ہی زندہ رہ سکتا ہے۔ کئی ماہرین نے اس تحقیق کو سائنسی پیش رفت قرار دیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے اخلاقی اور حفاظتی پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہوگا تاکہ اس کے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔


