ارمچی (شِنہوا) حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) نے چین کے سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لئے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ایچ بی ایل (حبیب بینک لمیٹڈ) کے صدر محمد ناصر سلیم نے حال ہی میں ارمچی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بینک نے ہمیشہ چین کے مغربی علاقوں کو بہت اہمیت دی ہےاور وہ پاک-چین اقتصادی تعلقات اور مالیاتی رابطوں کو مضبوط بنانے میں سنکیانگ کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے۔
ایچ بی ایل سنکیانگ میں قائم ہونے والا پاکستان کا پہلا تجارتی بینک ہے۔ اس کی ارمچی برانچ کا باضابطہ افتتاح 2017 میں کیا گیا تھا تاکہ سنکیانگ کے سٹریٹجک محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین اور پاکستان کے درمیان روزمرہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
سلیم نے کہا کہ ارمچی نے ہمیشہ اپنی متحرک فضا اور کاروبار دوست ماحول سے انہیں متاثر کیا ہے جبکہ سنکیانگ کے دورے میں انہیں اس خطے کی کشادہ دلی اور بیرونی دنیا کے لئے کھلے پن کو مزید قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔
سینئر ایگزیکٹو کے مطابق آنے والے سالوں میں بینک سرحد پار مالیاتی تعاون کے لئے نئے مواقع اور خیالات تلاش کرنے کی خاطر مختلف شعبوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
سلیم نے کہا کہ بینک سرحد پار تصفیہ اور فنانسنگ جیسے شعبوں میں اپنی روایتی طاقت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ گہرے علاقائی تعاون کو فروغ دینے اور چینی کرنسی آر ایم بی کو بین الاقوامی سطح پر مقبول بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم پورے سنکیانگ میں مقامی مالیاتی اور کاروباری اداروں کے ساتھ اپنا تعاون مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بینک اعلیٰ معیار کے مقامی کاروباروں کو عالمی سطح پر پھیلنے میں مدد فراہم کرتا رہے گا، جس سے انہیں پاکستان، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں نئی مارکیٹیں تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔
اس وقت ایچ بی ایل متعدد چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہا ہے، جن میں کئی بڑی سرکاری ملکیتی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
سنکیانگ کے 15 ویں 5 سالہ منصوبے میں غیر ملکی تجارتی تعاون کو وسعت دینے، غیر ملکی سرمایہ کاری والے اداروں کو سنکیانگ میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے راغب کرنے اور مالیاتی شعبے میں اعلیٰ سطح پر کھلے پن کو فروغ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔


