ہومتازہ ترینچینی سائنسدانوں کا فطرت کی دانش سے عظیم دیوار کے تحفظ کا...

چینی سائنسدانوں کا فطرت کی دانش سے عظیم دیوار کے تحفظ کا منصوبہ

لان ژو (شِنہوا) ہزاروں سال سے چین کی عظیم دیوار انسانی عزم و ہنر کا ایک شاہکار بن کر کھڑی ہے، تاہم وقت کے گزرنے، تیز ہواؤں اور بارشوں نے خاموشی سے اس ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے جسے کبھی انسانی ہاتھوں نے تعمیر کیا تھا۔ اب چینی سائنسدان اس کی حفاظت کے لئے خورد بینی جانداروں کی ایک پیچیدہ بستی یعنی بائیو کرسٹس کو بطور "قدرتی محافظ” استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

دون ہوانگ اکیڈمی اور چینی اکیڈمی آف سائنسز کے ماتحت نارتھ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایکو-انوائرنمنٹ اینڈ ریسورسز (این آئی ای ای آر) کے محققین نے حالیہ فیلڈ سرویز اور تجرباتی اعداد و شمار کا جامع تجزیہ کیا ہے جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بائیوکرسٹس عظیم دیوار کی مٹی کو دبا کر تعمیر کئے گئے حصوں کے تحفظ میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس کے فوائد ایک اہم حد پر منحصر ہیں، جس کا تعین تین عوامل کرتے ہیں جن میں علاقے کا موجودہ موسمی ماحول، دیوار کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مواد کی ساخت اور بائیوکرسٹس کی حیاتیاتی برادری کے ارتقائی مرحلے شامل ہیں۔

انہوں نے ایک نیا نکتہ نظر پیش کیا ہے کہ بائیوکرسٹس کم لاگت اور ماحول دوست حفاظتی تہہ کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ ان کے مجموعی مثبت اثرات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عظیم دیوار کو قدرتی ماحولیاتی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے، یعنی فطرت کی دانش اور طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اس تاریخی ورثے کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

فطرت پر مبنی یہ تصور اور حل، جس میں بائیوکرسٹس کی طاقت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور جسے عظیم دیوار کی "زندہ جلد” کا نام دیا گیا ہے، عالمی سطح پر ثقافتی ورثے کے تحفظ میں رائج جدید رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں