26 ممالک اور شنگھائی تعاون تنظیم کے تقریباً 40 غیر ملکی سفارت کاروں اور ماہرین نے بدھ کے روز چین کے صوبہ ہوبے کے چار روزہ مطالعاتی دورے کا آغاز کیا۔
ووہان میں منعقدہ ایک عمیق نمائش کے دوران انہوں نے ورچوئل رئیلٹی، انسانی شکل کے روبوٹس اور روبوٹک کتوں کا مشاہدہ کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): پال انتونیو کلیر جونیئر، سیکنڈ سیکرٹری، سفارت خانہ بہاماس، چین
’’ہم سب جانتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کا راستہ ہے۔ جس مقام پر ہم اس وقت موجود ہیں یہاں آ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ دنیا کے کئی حصوں سے ایک قدم آگے ہیں۔ میں ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اسی طرح اپنا کام جاری رکھیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ یہ پیش رفت ہمیں کہاں تک لے جاتی ہے۔
میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ روبوٹس مختلف صنعتوں میں معاون کردار ادا کریں گے۔ چاہے بھاری اشیا اٹھانے کا کام ہو یا کسی بزرگ شخص کو دروازہ کھولنے میں مدد دینا۔ ان کے استعمال کے بے شمار امکانات موجود ہیں لیکن یہی مستقبل کا راستہ ہے اور ہمیں اسے اپنانا ہوگا۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): مارٹن اورلینڈو، منسٹر قونصلر، سفارت خانہ یوراگوئے، چین
’’ہم چین میں اپنی روزمرہ زندگی میں اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ موبائل فون کی سہولیات سے لے کر تیز رفتار ٹرینوں کے سفر تک ٹیکنالوجی یہاں روزمرہ زندگی کا لازمی جزو بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اسے عوام کی بہتری اور سہولت کے لئے کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔‘‘
وفد نے ہوبے کے صوبائی عجائب گھر کا بھی دورہ کیا۔
انہوں نے قدیم چُو تہذیب کے بارے میں معلومات حاصل کیں جس کی جڑیں اس صوبے میں گہرائی تک پیوست ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): آندرے تیہوف، سفیر بلغاریہ، چین
’’مجھے بے حد خوشی ہے کہ منتظمین نے تکنیکی مراکز کے دوروں کو عجائب گھروں کے دوروں کے ساتھ یکجا کیا کیونکہ اس سے ہمیں ماضی اور مستقبل کے درمیان تعلق کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘
وفد کے ارکان ۲وسجِنگ ژو اور یی چھانگ کا بھی دورہ کرے گاجہاں وہ ہوبے کی تکنیکی جدت،ماحول دوست ترقی، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بیرونی دنیا کے لئے کھلے پن کی کوششوں کا مشاہدہ کریں گے۔
ووہان، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


