کیا آپ کو اپنے موبائل فون پر اسکرین پروٹیکٹر لگانا مشکل لگتا ہے؟
اب ذرا تصور کیجئے کہ یہی کام 80 منزلہ عمارت جتنے بلند ایک دیوہیکل ڈھانچے پر کرنا پڑ جائے۔
یہ چین میں واقع لاوا ہائیڈرو پاور اسٹیشن ہے جہاں کارکنوں نے دریائے جِنشا پر تعمیر ہونے والے دیوہیکل ڈیم کے دوسرے مرحلے کی کنکریٹ حفاظتی تہہ مکمل کر لی ہے۔ یہ پیش رفت قومی گرڈ کو مزید صاف بجلی کی فراہمی اور کم کاربن اخراج پر مبنی ملک کی ترقیاتی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اور قدم ہے۔
چین کے لاوا ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے انجینئرز نے تعمیراتی کام کا ایک اہم سنگِ میل عبور کیا۔ انہوں نے دنیا کے بلند ترین کنکریٹ فیس راک فل ڈیم بننے والے منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کنکریٹ حفاظتی تہہ مکمل کر لی ہے۔
یہ ڈیم دریائے جِنشا سے 242.5 میٹر بلند بنیادی طور پر تہہ در تہہ مضبوطی سے دبائی گئی چٹانوں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی کنکریٹ حفاظتی تہہ ایک دیوہیکل آبی رکاوٹ کا کام کرتی ہے جو ذخیرہ آب کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ دشوار ماحولیاتی حالات سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔
سمندر کی سطح سے تقریباً تین ہزار میٹر کی بلندی پر تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ شدید درجۂ حرارت کے اتار چڑھاؤ اور زلزلوں سے متعلق سخت حفاظتی تقاضوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیر کا ہر مرحلہ انجینئرنگ کے لحاظ سے ایک پیچیدہ چیلنج بن جاتا ہے۔
ڈیم کے دوسرے مرحلے کی کنکریٹ حفاظتی تہہ کا مکمل ہونا اس منصوبے کی تکمیل کی جانب ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
لاوا ہائیڈرو پاور اسٹیشن دریائے جِنشا کے بالائی حصے پر قائم صاف توانائی کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہےجہاں پن بجلی، ہوا اور شمسی توانائی کے وسائل کو یکجا ترقی دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد چین کی کم کاربن ترقی کو آگے بڑھانا اور زیادہ قابلِ اعتماد قابلِ تجدید بجلی فراہم کرنا ہے۔


