ہوماہم ترینسیلز ٹیکس میں کمی نہ ہونے سے کاٹن سیکٹر بحران کا شکار

سیلز ٹیکس میں کمی نہ ہونے سے کاٹن سیکٹر بحران کا شکار

کراچی (لارڈ میڈیا): وزیر خزانہ کی یقین دہانیوں کے باوجود وفاقی بجٹ میں کاٹن جننگ سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس میں کمی نہ ہونے سے کاٹن سیکٹر اور کاشت کاروں میں اضطراب بڑھ گیا ہے۔ روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی مندی دیکھی جا رہی ہے جبکہ مزید ٹیکسٹائل ملوں اور جننگ فیکٹریوں کی بندش کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ بجٹ سے قبل اپٹما اور کاٹن جنرز نے سیلز ٹیکس میں کمی کے مطالبات کیے تھے، لیکن بجٹ میں ریلیف نہ ملنے پر حکومتی یقین دہانیاں موصول ہوئیں کہ کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کیا جائے گا۔

احسان الحق نے کہا کہ بجٹ کے بعد بھی 30 ترامیم کی گئیں، لیکن کاٹن سیکٹر کو کوئی ریلیف نہیں ملا، جس کے باعث روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں زبردست مندی کا رحجان دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کپاس کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ روئی اور خوردنی تیل کی درآمد پر زرمبادلہ کی بچت ممکن ہو۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے کہا کہ پاکستان کی کپاس کی قومی پیداوار کے اعدادوشمار کے عدم اجراء سے عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں