لاہور (لارڈ میڈیا): پنجاب حکومت نے جنگلی جانوروں کے علاج اور ریسکیو کے لیے پاکستان کا پہلا موبائل وائلڈ لائف کلینک تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد زخمی اور بیمار جنگلی جانوروں کو ان کی موجودہ جگہ پر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ لاہور سفاری زو میں موجود اس جدید موبائل کلینک میں پورٹیبل ایکسرے، ڈوپلر الٹراساؤنڈ، ای سی جی، وائٹل مانیٹر، آکسیجن کنسنٹریٹر، لیبارٹری سہولیات اور معمولی سرجری کے لیے درکار جدید آلات نصب کیے گئے ہیں۔ کلینک میں جانوروں کے خون اور دیگر نمونوں کے ابتدائی ٹیسٹ بھی موقع پر کیے جا سکیں گے۔ ڈائریکٹر ویٹرنری سروسز ڈاکٹر رضوان خان نے بتایا ہے کہ جنگلی جانوروں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا کیونکہ منتقلی کے دوران انہیں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ موبائل کلینک تیار کیا گیا ہے تاکہ جانوروں کا معائنہ، تشخیص اور ابتدائی علاج موقع پر ہی کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کلینک میں موجود بیشتر طبی آلات پورٹیبل اور ری چارج ایبل ہیں، جنہیں دور دراز علاقوں، صحراؤں اور پہاڑی مقامات پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کی فراہمی کے لیے گاڑی میں سولر سسٹم اور جنریٹر بھی نصب کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رضوان خان کے مطابق موبائل کلینک میں جدید ڈارٹ گن بھی موجود ہے، جس کے ذریعے ضرورت پڑنے پر جنگلی جانوروں کو محفوظ فاصلے سے دوا دی جا سکتی ہے یا بے ہوش کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا موبائل وائلڈ لائف کلینک ہے اور اسے پنجاب بھر کے چڑیا گھروں، سفاری پارکس، جنگلی حیات کے مراکز اور ریسکیو آپریشنز میں استعمال کیا جائے گا۔


