چین کے طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے منگل کے روز جمہوریہ کانگو (ڈی آرسی)کے دارالحکومت کنشاسا میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ ایبولا کی وبا کی صورتحال، اس کی روک تھام اور قابو پانے کی ضرورت اور ممکنہ تعاون کے شعبوں پر بات چیت کی جا سکے۔
ملاقات میں چینی ٹیم کے سربراہ لو مِنگ نے کانگو کے صحت حکام، طبی اداروں، بیماریوں پر قابو پانے والی ایجنسیوں اور آئی ایف آر سی سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم خاص طور پر بیماری کی روک تھام، کنٹرول اور کیسز سے نمٹنے کے حوالے سے زمینی سطح پر اصل ضروریات کی جلد از جلد نشاندہی کرے گی۔ اس کے علاوہ ٹیم وبا کی پیش رفت کے تجزیے، مریضوں کے علاج، لیبارٹری ٹیسٹنگ، وبا کی روک تھام اس پر کنٹرول کی تربیت میں معاونت بھی فراہم کرے گی تاکہ صورتحال پر شروع میں ہی قابو پایا جا سکے۔
کنشاسا میں آئی ایف آر سی کی آپریشنز منیجر سونیا مارائس نے چینی حکومت کی جانب سے طبی ماہرین کی ٹیم بھیجنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آئی ایف آر سی چینی فریق کے ساتھ رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے۔
مارائس نے بتایا کہ آئی ایف آر سی نے وبائی امراض کی روک تھام سے متعلق چینی ماہرین کی جانب سے کئے جانے والے تعاون کا خیرمقدم کیاہے جس کا مقصد بیماری کی شناخت، روک تھام اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ اس تعاون میں مقامی سطح پر کمیونٹی کی تربیت اور مدد خاص طور پر قابل ذکرہے۔
چینی ماہرین کی پانچ رکنی ٹیم 2 جون کو کنشاسا پہنچی تھی جہاں اسے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے خلاف جدوجہد میں معاونت کے لئے تین ماہ کے مشن پر تعینات کیا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے 17 مئی کو ایبولا کو بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ایمرجنسی قرار دیا ۔ چین کے قومی صحت کمیشن نے ایبولا کے خلاف جنگ میں معاونت کے لئے یکم جون کو ایک اعلیٰ سطحی طبی ٹیم جمہوریہ کانگو بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
کنشاسا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


