ہومتازہ ترینبحر ہند میں وہیل مچھلیوں کا 53 لاکھ سال پرانا ’’قبرستان‘‘ دریافت

بحر ہند میں وہیل مچھلیوں کا 53 لاکھ سال پرانا ’’قبرستان‘‘ دریافت

بیجنگ (شِنہوا) سائنسدانوں نے سمندر کی تہہ میں وہیل مچھلیوں کی باقیات کا دنیا کا سب سے گہرا اور سب سے بڑا مجموعہ دریافت کیا ہے، جسے انہوں نے وہیلوں کا قبرستان قرار دیا ہے۔

جنوب مشرقی بحر ہند کے ڈائمنٹینا زون میں 7 ہزار میٹر تک کی گہرائی میں واقع اس دریافت میں قدیم فوسلز اور مردہ وہیل مچھلیوں سے بننے والے فعال ماحولیاتی نظام شامل ہیں، جو کم از کم 53 لاکھ سال سے تشکیل پا رہے ہیں۔

یہ تحقیق چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیپ سی سائنس اینڈ انجینئرنگ (آئی ڈی ایس ایس ای) نے اٹلی کی پیسا یونیورسٹی اور نیوزی لینڈ کے شہر ویلنگٹن کے ادارہ ارضیاتی علوم کے اشتراک سے کی ہے، جو سائنسی جریدے نیچر کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

مردہ وہیل مچھلیاں جب سمندر کی تہہ میں جا ڈوبتی ہیں تو ان کے گرد ایک منفرد ماحولیاتی نظام تشکیل پاتا ہے۔ ان کے مردہ اجسام گہرے سمندر کی مخلوقات کے لئے غذائیت سے بھرپور عارضی مسکن فراہم کرتے ہیں، جہاں ہڈیوں کو کھانے والے کیڑوں سے لے کر سی سٹارز تک مختلف جاندار پرورش پاتے ہیں۔ اب تک دریافت ہونے والے ایسے زیادہ تر مقامات 4 ہزار میٹر سے کم گہرائی میں پائے گئے ہیں جبکہ سب سے گہرا فعال مقام 4 ہزار 204 میٹر کی گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 6 ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی والے علاقوں میں اس سے پہلے کبھی کوئی فعال وہیل فال ماحولیاتی نظام رپورٹ نہیں ہوا تھا۔

2023 میں آئی ڈی ایس ایس ای کی قیادت میں ایک تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقی جہاز تان سو-1 پر موجود انسان بردار گہرے سمندر کی آبدوز فینڈوژے کے ذریعے 32 غوطے لگائے۔ ٹیم نے ڈائمنٹینا زون کے 1200 کلومیٹر طویل علاقے کا جائزہ لیا اور 5 فعال وہیل فال مقامات کے ساتھ 476 فوسل مقامات دریافت کئے، جو 4 ہزار 616 سے 7 ہزار ایک میٹر کی گہرائی میں موجود ہیں۔ بعض مقامات پر وہیل باقیات کی کثافت 759 اعشاریہ 5 فی مربع کلومیٹر تک ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق اگر اس شرح کو پورے علاقے پر لاگو کیا جائے تو وہاں ایک کروڑ سے زائد وہیل مچھلیوں کی لاشیں موجود ہو سکتی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں