لان ژو (شِنہوا) چینی سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موسمیاتی حدت کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اثرات شمالی بلند عرض البلد کے مستقل منجمد زمینی علاقوں کے ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان کی طرف دھکیل دیں گے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے نارتھ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایکو انوائرنمنٹ کے مطابق یہ تحقیق این آئی ای ای آر اور متعدد دیگر جامعات و تحقیقی اداروں کے تعاون سے انجام دی گئی جبکہ اس کے نتائج سائنسی جریدے این پی جے کلائمیٹ اینڈ ایٹماسفیرک سائنس میں شائع ہوئے ہیں۔
این آئی ای ای آر کی محقق لی شیاؤ ینگ کے مطابق عالمی حدت کے تناظر میں بلند عرض بلد کے مستقل منجمد زمینی علاقے بے مثال جنگلاتی آگ کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر جنگلاتی آگ سے ہونے والے اخراج میں کمی کے باوجود خطے میں سالانہ کاربن اخراج میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مشترکہ تحقیقی ٹیم نے ’’مستقل منجمد زمینی حساس خطے (پی سی زیڈ)‘‘ کا تصور پیش کیا جو روایتی حساس خطے کے فریم ورک کو کمزور برفانی ماحولیاتی نظاموں تک وسعت دیتا ہے۔ یہ تصور زمینی نظام کے جامع نقطہ نظر پر مبنی ہے اور بلند عرض البلد کے ان علاقوں پر جنگلاتی آگ کے تسلسلی اثرات کا جائزہ لینے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق ان علاقوں میں جنگلاتی آگ کے باعث نامیاتی سطح کی تہہ کے جلنے اور زمینی سطح کی انعکاسی صلاحیت میں کمی سے اس حساس خطے کا توازن بگڑ جاتا ہے جس سے زمین کی سطح کا درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے جبکہ فعال زمینی تہہ کی گہرائی 6 گنا تک زیادہ ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ شدید حرارتی جھٹکے آبی بہاؤ کے قدرتی راستوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں زمینی برف تیزی سے پگھلتی ہے مستقل منجمد زمین کے اوپر پانی کے ذخائر کی کیفیت بدل جاتی ہے اور سطحی بہاؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔


