استنبول (شِنہوا) استنبول میں مقیم تجزیہ کار مورت طوفان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی ترسیلی سلسلے میں رکاوٹوں کا سبب بن رہی ہے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ابھرتی ہوئی معیشتوں میں مسلسل مہنگائی کو بڑھا رہی ہیں۔
انہوں نے شِنہوا کو انٹرویو میں بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کو اتوار کے روز 100 دن پورے ہوگئے، اس تنازع کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت کے لئے ایک اہم راستہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی تاخیر کے باعث کھاد اور شپنگ کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی حتمی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
طوفان نے کہا کہ "متوقع مہنگائی” ترقی پذیر ممالک کے موجودہ معاشی مسائل کا ایک بنیادی سبب ہے کیونکہ یہ ممالک درآمدی مہنگائی اور عالمی قیمتوں کے جھٹکوں کے لئے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ صارفین اب اس مفروضے کے تحت کام کر رہے ہیں کہ اگلے روز اشیاء کی قیمت لازمی طور پر گزشتہ روز سے زیادہ ہوگی اور یہی سوچ مہنگائی کے خلاف وسیع تر کوششوں کو کمزور کر رہی ہے۔
طوفان نے کہا کہ اس خوف کے باعث ان کی روزمرہ عادات میں نمایاں تبدیلی آ گئی ہے، لوگ کھانے پینے کی بنیادی اشیاء جمع کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ادھار پر انحصار کر رہے ہیں اور قیمتوں میں اضافے سے پہلے ضروری گھریلو سامان خریدنے کی جلدی میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ خوف پر مبنی ماحول کاروباری اداروں کو بھی موقع دیتا ہے کہ وہ من مانی طور پر قیمتیں بڑھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی نئی اور کہیں زیادہ خطرناک لہر نے عالمی مرکزی بینکوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
طوفان نے مزید کہا کہ شرح سود میں اضافہ جیسے روایتی مالیاتی اقدامات اس قسم کی مہنگائی کو روکنے کے لئے زیادہ موثر نہیں ہوتے کیونکہ مرکزی بینک عالمی توانائی یا اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔


