ہومتازہ ترینپاکستان سمیت مختلف ممالک کے سفارت کاروں کا چین کے اقتصادی مرکز...

پاکستان سمیت مختلف ممالک کے سفارت کاروں کا چین کے اقتصادی مرکز میں ترقیاتی کامیابیوں کا مشاہدہ

گوانگ ژو (شِنہوا) جب چین میں فلپائن کے سفیر جائم اے فلورکروز 1971 میں پہلی بار شین زین پہنچے تو یہ شہر محض ایک الگ تھلگ اور غیر ترقی یافتہ ماہی گیر بستی تھا اور چین کے تین ہفتوں پر مشتمل دورے میں دوپہر کے کھانے کے لئے ایک مختصر پڑاؤ کی حیثیت رکھتا تھا۔ تاہم چند ہی دہائیوں میں شین زین جدت طرازی کے ایک عالمی مرکز میں تبدیل ہو گیا۔

سفیر نے چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ، جو ملک کا اقتصادی مرکز ہے، کے حالیہ دورے میں کہا کہ شین زین نہ صرف چین کی اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کی علامت ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ دور اندیشی، تجربہ کاری اور طویل مدتی عزم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اپنے عہد کی سب سے نمایاں کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

یکم سے 5 جون تک وزارت خارجہ اور گوانگ ڈونگ صوبائی حکومت کے مشترکہ اہتمام سے "15 ویں پانچ سالہ منصوبے کی جانب پیش قدمی: چین کی ترقی، دنیا کے لئے مواقع (گوانگ ڈونگ)” کے عنوان سے ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں 37 ممالک کے 60 سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے گوانگ ڈونگ کی اقتصادی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور تعاون کے مزید امکانات کا جائزہ لیا۔

گوانگ ژو میں واقع ہائی شین شا اومنی سپیس انٹیلیجنٹ ایکسپیرینس سنٹر غیر ملکی سفارت کاروں کو چین کے سمارٹ طرز زندگی سے روشناس کرانے کا ایک اہم مرکز ہے۔

اس کے بیرونی ہیلی پیڈ پر ای ہانگ کی اڑنے والی ٹیکسیاں فضا میں پرواز کرتی نظر آئیں جبکہ نمائش گاہ میں روبوٹس نے پیانو بجانے اور مارشل آرٹس کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح سمارٹ سروس روبوٹس نے کھانے تیار کئے اور کافی بنائی۔

فجی کے سفیر رابرٹ لی نے ایک ایکسوسکیلیٹن روبوٹ آزمانے کے بعد کہا کہ ایسے جدید آلات جسمانی مشقت کو موثر انداز میں کم کرتے ہیں اور کمزور طبقات کی زندگی کے معیار میں نمایاں بہتری لاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک میں مزید اعلیٰ معیار کی سائنسی اور تکنیکی مصنوعات متعارف کرانے کی خواہش ظاہر کی۔

ٹیکنالوجی میں جدت کی یہ عملی قوت اب تعاون کو مزید گہرا کرنے کے پختہ عزم میں تبدیل ہو رہی ہے۔

ژونگ شان میں قائم ونڈ ٹربائن بنانے والی اور صاف توانائی کے حل فراہم کرنے والی کمپنی منگ یانگ سمارٹ انرجی گروپ کے ہیڈکوارٹر میں کمپنی کے نمائندوں اور غیر ملکی سفارت کاروں کے درمیان بھرپور مذاکرات اور تفصیلی کاروباری تبادلہ خیال ہوا۔

کمپنی کی ونڈ ٹربائنز پاکستان کے بحر ہند کے ساحلی علاقوں میں نصب ہیں، جہاں وہ سمندری ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کو مقامی ترقی کی قوت میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی سلسلے کی مشترکہ ترقی اور مقامی روزگار کے فروغ کے ذریعے منگ یانگ نے چین اور پاکستان کے درمیان باہمی فائدے پر مبنی تعاون کی ایک مثال قائم کی ہے۔

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ پاکستان فوسل فیول سے صاف اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے عمل سے گزر رہا ہے جبکہ چین آبی، جوہری، ہوا، شمسی اور ہائیڈروجن توانائی کے شعبوں میں عالمی رہنما ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مزید منصوبے شروع کرنے اور توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے چینی کمپنیوں سے مذاکرات کر رہا ہے۔

صنعتی اور اقتصادی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے چین کے ترقیاتی تجربات سے سیکھنا اور اس کے طرز حکمرانی سے رہنمائی حاصل کرنا شریک سفارت کاروں کی مشترکہ خواہش بن چکا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں