واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان میں خفیہ طور پر اپنے ایلیٹ فوجی اور انٹیلیجنس یونٹ تعینات کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعیناتیاں مشرق وسطیٰ میں قائم خفیہ اڈوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ تھیں، جس کا مقصد ایران کے خلاف کارروائیوں میں سہولت فراہم کرنا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز آذربائیجان کے جنوبی علاقوں میں متعدد مقامات سے آپریٹ کر رہی تھیں، جہاں سے انہوں نے انٹیلیجنس معلومات اکٹھی کیں اور ڈرون آپریشنز انجام دیے۔ ان مقامات میں سے بعض ایرانی شہر تبریز سے صرف 60 میل کے فاصلے پر تھے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘آذربائیجان کی سرزمین کو کسی تیسرے ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے سے متعلق بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں’۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ میں بھی اس نوعیت کے خفیہ فوجی اڈے قائم کیے تھے۔ ان اڈوں کو لاجسٹک معاونت اور ہنگامی حالات میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات میں آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام بھی تعینات کیا تھا، جو کسی دوسرے ملک میں پہلی بار فراہم کیا گیا تھا۔


