نان چھانگ (شِنہوا) دنیا کا کارخانہ کہلائے جانے والے ملک چین کے کارخانوں میں ایک خاموش انقلاب جاری ہے کیونکہ صنعتی علاقوں میں ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور پائیدار طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔
چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے دارالحکومت نان چھانگ میں چائنہ ریسورسز جیانگ ژونگ فارماسوٹیکل ویلی پر ادویات کے پیداواری مرکز سے زیادہ ایک قدرتی تحفظ کے مقام کا گمان ہوتا ہے۔
133 ہیکٹر کے تین چوتھائی حصے پر جنگلات اور جھیلیں پھیلی ہیں۔ سات تہوں پر مشتمل ڈیم سے گندا پانی صاف ہونے کے بعد نیچے کی جانب بہتے ہوئے شیشے جیسا نظر آتا ہے جبکہ چین کے دوسرے درجے کی تحفظ یافتہ انواع میں شامل بطخیں پانی میں سکون اور اطمینان سے تیرتی نظر آتی ہیں۔
سی آر جیانگ ژونگ وان لی پیداواری مرکز کے جنرل منیجر ژونگ ژی جیان نے بتایا کہ گندا پانی صاف کرنے کے بعد براہ راست زراعت یا آگ بجھانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جو شعبے کبھی صنعتی آلودگی کی علامت سمجھے جاتے تھے، جیسے فولاد اور سیمنٹ کی صنعت، آج چین کی ماحول دوست تبدیلی کے عمل میں صف اول کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
نان چھانگ میں واقع فانگ دا سپیشل اسٹیل نے اپنے 220 ہیکٹر پر محیط صنعتی کمپلیکس کو ایک ایسے مقام میں تبدیل کر دیا ہے جہاں سبزہ 39 فیصد رقبے پر پھیلا ہوا ہے جبکہ 30 ہزار مربع میٹر پر مشتمل آبی مناظر بھی قائم کئے گئے ہیں۔ فانگ دا سپیشل اسٹیل کے ماحولیاتی انتظامی شعبے کے چیف انجینئر ژانگ یو لونگ کے مطابق یہ جیانگ شی صوبے کی پہلی سٹیل کمپنی ہے جسے قومی سطح پر 4 اے درجے کے سیاحتی مقام کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
تاہم 17 سال پہلے یہ مقام ایک روایتی پرانا صنعتی زون تھا، جہاں ہر طرف دھول مٹی اڑتی رہتی اور فرسودہ مشینری موجود تھی۔ 2009 میں اس میں تبدیلی کا موڑ آیا، جب کارپوریٹ تنظیم نو کے بعد توانائی کی بچت اور آلودگی کے اخراج میں کمی کے کئی منصوبے شروع کئے گئے۔ 2018 میں کمپنی نے ماحولیاتی بحالی کے لئے دوبارہ بھاری سرمایہ کاری کی۔
ملک بھر میں چین کی صنعت اس روایتی تاثر کو ختم کر رہی ہے کہ ‘صنعت کا مطلب آلودگی ہے’، اور یہ سب تکنیکی جدت طرازی اور ماحولیاتی سرمایہ کاری کی بدولت ممکن ہو رہا ہے۔


