ہومانٹرنیشنلٹرمپ کا زیلنسکی اور پوتن کے درمیان براہ راست مذاکرات کے امکان...

ٹرمپ کا زیلنسکی اور پوتن کے درمیان براہ راست مذاکرات کے امکان کا خیرمقدم

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان براہ راست بات چیت کے امکان کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ وہ کئی سالوں سے جاری تنازع کے خاتمے کے لئے سمجھوتہ کریں۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی کے اس کھلے خط کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے پوتن کے ساتھ براہ راست ملاقات کی تجویز پیش کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ "مجھے خوشی ہے کہ شاید وہ ملاقات کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں اگر وہ ملیں تو یہ بہت اچھا ہوگا۔ انہیں ملنا چاہیے اور اس معاملے کو حل کرنا چاہیے۔”

ٹرمپ نے مزید کہا کہ "دونوں فریق سمجھوتے کریں گے۔ میں نے ان سمجھوتوں کے بارے میں تجاویز دی ہیں اور اس سلسلے میں ہمارا بھی کافی کردار رہا ہے۔”

تاہم ٹرمپ نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ تنازع کے خاتمے کے لئے دونوں رہنما کن رعایتوں پر آمادہ ہوئے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو زیلنسکی نے پوتن سے جنگ کے خاتمے کے لئے براہ راست مذاکرات کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا تسلسل روس کے وسائل اور اس کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا کہ اگر زیلنسکی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو وہ کسی بھی وقت ماسکو آ سکتے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں