ہومتازہ ترینلاؤس کے صدر کا چین کے ماحول دوست اقدامات کے جائزہ کے...

لاؤس کے صدر کا چین کے ماحول دوست اقدامات کے جائزہ کے لئے صوبے ژے جیانگ کا دورہ

ہانگ ژو (شِنہوا) لاؤ پیپلز ریوولوشنری پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور لاؤ کے صدر تھونگ لون سیسولتھ نے چین کے ماحول دوست ترقی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے بدھ کو چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ کی کاؤنٹی آن جی کا دورہ کیا۔

تھونگ لون سیسولتھ نے یوکن گاؤں میں داخلے کے وقت ایک چٹان کی تصویر بنائی جس پر "شفاف پانی اور سر سبز پہاڑ بیش قیمت اثاثہ ہیں” کی تحریر کندہ تھی۔

یوکن اس تصور کی جائے پیدائش ہے اور یہ بڑی چٹان ایک روحانی علامت کے طور پر موجود ہے جس نے گاؤں کو ماحول دوست ترقی کے راستے پر چلنے میں رہنمائی دی ہے۔

دورے میں تھونگ لون نے یوکن کے پہلے زرعی سیاحتی کاروبار چھون لین ولا کے منتظم سے بات چیت کی۔ وہ یہ جان کر بہت متاثر ہوئے کہ یہ ولا سالانہ 10 لاکھ یوآن سے زائد (تقریباً ایک لاکھ 46 ہزار 621 امریکی ڈالرز) آمدن حاصل کر رہا ہے جو کہ پتھروں کی کان کنی پر انحصار چھوڑ کر ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینے کی جانب گاؤں کی تبدیلی کا عکاس ہے۔

تھونگ لون نے رخصت ہونے سے قبل گاؤں کو ہاتھ سے بنی ہوئی یادگاری پلیٹ کا تحفہ پیش کیا جس پر لاؤ کے قومی اثاثے تھاٹ لوانگ مندر کا نقش بنا ہوا تھا، اس کے بدلے میں انہیں کندہ چٹان کا نمونہ تحفے میں پیش کیا گیا۔

تھونگ لون نے آن جی کے لنگ فینگ قومی سیاحتی مرکز میں ہوم سٹے کے ایک مرکز کا بھی دورہ کیا۔ یہ قومی ماڈل ہوم اسٹے کمیونٹی 100 سے زائد نوجوان کاروباری افراد کو اپنی جانب راغب کر چکی ہے اور سالانہ 10 کروڑ یوآن سے زائد آمدن حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے آن جی کے سرمایہ کاری راغب کرنے کے اقدامات اور معاون حکمت عملی کو سراہا جنہوں نے مقامی نوجوانوں اور آبائی شہر واپس لوٹنے والے کالج گریجویٹس کے لئے ملازمت کے مواقع پیدا کئے۔

تھونگ لون نے کہا کہ ژے جیانگ کے دورے میں انہوں نے چین کی جدید سوشلسٹ کامیابیوں کا براہ راست مشاہدہ کیا۔

رواں سال چین اور لاؤس کے درمیان سفارتی تعلقات کی 65 ویں سالگرہ اور چین لاؤس دوستی سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ تھونگ لون نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ان کا یہ سرکاری دورہ جس میں بیجنگ کا دورہ بھی شامل ہے، میں دو طرفہ تعاون مزید وسیع ہوگا اور دونوں ممالک کے جامع تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں