ہومانٹرنیشنلروس-چین تعلیمی سالوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنایا، ریکٹر روسی یونیورسٹی

روس-چین تعلیمی سالوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنایا، ریکٹر روسی یونیورسٹی

ماسکو (شِنہوا) روسی یونیورسٹی کے ریکٹر نے کہا ہے کہ روس-چین تعلیمی سال دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کی کامیابیوں کا جائزہ لینے اور نئے تبادلہ پروگراموں کی منصوبہ بندی کے لئے ایک موثر طریقہ کار بن چکے ہیں۔

روس کی پیپلز فرینڈشپ یونیورسٹی کے ریکٹر اولیگ یاستری بوف نے شِنہوا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کار دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں نئی توانائی پیدا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال روس-چین تعلیمی سال کا آغاز روس اور چین کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے قیام کی 30ویں سالگرہ اور دونوں ممالک کے درمیان ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا ہے۔

یاستری بوف نے کہا کہ روس اور چین کے تعلقات دوستی اور باہمی اعتماد پر قائم ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ روس کے تعلیمی شعبے نے اس سال پرائمری اور سیکنڈری تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور تاحیات تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں 100 سے زائد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس اور چین دونوں اپنے تعلیمی تبادلوں میں طویل المدتی تزویراتی منصوبہ بندی پر توجہ دیتے ہیں۔ اس وقت 60 ہزار سے زائد چینی طلبہ روسی جامعات میں زیر تعلیم ہیں جبکہ تقریباً 20 ہزار روسی طلبہ چینی جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

یاستری بوف کے مطابق ان کی یونیورسٹی نے اپنے قیام سے ہی چینی تعلیمی اداروں کے ساتھ تزویراتی تعاون برقرار رکھا ہے اور مختلف شعبوں میں چینی طلبہ کو داخلے دیئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 3 ہزار چینی انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں جو زیادہ تر کیمسٹری، انفارمیشن سائنس اور طب جیسے بنیادی شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

یاستری بوف نے کہا کہ چینی طلبہ میں لسانیات اور ادب کے پروگراموں کی خاصی طلب پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی روسی زبان کی تعلیم سے متعلق دوطرفہ اقدامات کی بھی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ روسی اور چینی جامعات کے درمیان سائنسی تحقیق کے شعبے میں تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ تعاون بنیادی طور پر طب، حیاتیات اور زراعت میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً احتیاطی طب اور صحت مند بڑھاپے سے متعلق تحقیق پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان مکالمہ، ثقافتی تبادلے اور باہمی سمجھ بوجھ روس اور چین کے درمیان دوستانہ ہمسائیگی کے تعلقات کی اہم بنیادوں میں سے ایک ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں