کوئٹہ (لارڈ میڈیا): پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ جاری ہے، جس میں نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کوئٹہ میں صوبائی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کی جنگ بڑی حد تک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو چکی ہے۔ جمال رئیسانی کے مطابق کالعدم تنظیمیں مختلف موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے رابطے، منصوبہ بندی اور بھرتیوں کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن سوشل میڈیا مہمات اور ٹرینڈز کے ذریعے بھی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ رئیسانی نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ان معاملات کا جائزہ لینا چاہیے اور صوبے کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے علیحدگی پسند سیاست کی اجازت نہ دینے کا عزم ظاہر کیا۔


