مو اُوس صحرا میں کئی دہائیوں سے شجرکاری کرنے والی ایک چینی خاتون اس وقت رونالڈ ساکولسکی کی تلاش میں ہیں۔
سال 1999 میں مسٹر ساکولسکی نے ان کی شجرکاری مہم میں تعاون کی غرض سے 5 ہزار امریکی ڈالر عطیہ کئے تھے۔
اب سال 2026 میں وہ ساکولسکی کو مدعو کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے صحرا کی یہ تبدیلی دیکھ سکیں۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): ین یُوژین، کسان
”ہیلو مسٹر ساکولسکی۔ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو میں آپ کو خصوصی دعوت دیتی ہوں کہ ایک بار پھر چین آئیں اور اس سرسبز جنگل کو دیکھیں جس کے اٰگائے جانے میں وہ رقم بھی شامل ہے جو کبھی آپ نے عطیہ کی تھی۔ سال 1999 میں آپ نے سی سی ٹی وی فور پر میری کہانی دیکھی تھی۔ اس وقت آپ نے بیجنگ میں ایک فاؤنڈیشن کو رقم دی اور مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے اس سے پہلے اتنی بڑی رقم کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس بات نے مجھے حیران کر دیا۔ میں نے مزید پودے خریدے اور ایک وسیع علاقے میں جنگل اُگا دیا۔ جب مسٹر ساکولسکی مجھ سے ملنے آئے تو میں اس وقت بھی درخت لگانے میں مصروف تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ناممکن کام تھا لیکن آخرکار یہ ممکن ہو گیا۔“
ہوہوت، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


