واشنگٹن (شِنہوا) وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ایران کے خلاف طویل مدت کی ناکہ بندی کی تیاری کی جائے جبکہ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سکیورٹی حکام کے ساتھ اجلاس سمیت حالیہ اجلاسوں میں ٹرمپ نے ایران کی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لئے ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے بحری جہازوں کو روکنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق صدر نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے دستبردار کرنے کے لئے یہ ناکہ بندی ایک "زیادہ خطرے والا قدم” ضرور ہے، لیکن یہ دوسرے آپشنز یعنی دوبارہ بمباری شروع کرنے یا تنازع سے نکل جانے کے مقابلے میں کم خطرناک ہے۔
انہوں نے اخبار کو بتایا کہ ٹرمپ اس وقت اپنے اس مطالبے سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ایران کم از کم 20 سال کے لئے یورینیم افزودگی معطل کرنے کا وعدہ کرے اور اس کے بعد بھی پابندیوں کو قبول کرے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا کہ ایران کی تین نکاتی پیشکش جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات کو بعد میں کرنے کی بات کی گئی،اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران سنجیدگی اور نیک نیتی سے بات چیت نہیں کر رہا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں اپنے فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور ایرانی بندرگاہوں کی کامیاب ناکہ بندی کی بدولت امریکہ کو مذاکرات میں ایران پر مکمل دباؤ حاصل ہے تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔


