چین کے مشرقی صوبہ ژےجیانگ کے شہر لونگ چھوان کو قدیم بحری شاہراہِ ریشم کے دوران چینی مٹی کے برتنوں کے ایک اہم مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔
لونگ چھوان کی سیلاڈون کو تیار کرنے کی روایتی بھٹی سازی کی تکنیک دنیا کا پہلا اور واحد سرامک فن ہے جو یونیسکو کی انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل ہے۔
حال ہی میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے آٹھ فنکاروں نے اس تاریخی شہر کا دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے مقامی مناظر اور سیلاڈون فن سے متاثر ہو کر مصوری کے کچھ فن پارے بھی تخلیق کئے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): مونگ مونگ شو، بنگلہ دیشی مصور
"یہاں کا قدرتی منظر واقعی بہت خوبصورت ہے۔ اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں مٹی کے برتنوں اور سرامک فن سے متعلق ان کی اپنی منفرد ثقافت موجود ہے۔ ہم یہاں سے بھی کچھ سیکھ سکتے ہیں اور کوشش کر سکتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں بھی کچھ نیا کریں۔ میرے خیال میں یہی ثقافتی تبادلہ ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): شاہد العالم، بنگلہ دیشی فوٹوگرافر و مصنف
"ان ثقافتی سرگرمیوں سے باہمی تعلق اور یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ ہماری ثقافتوں میں مماثلتیں بھی ہیں اور اختلافات بھی۔ لیکن ان فنون کے ذریعے ہم زبان کی رکاوٹوں کو کم کر سکتے ہیں اور ایک ایسی مشترکہ زبان کے ذریعے آپس میں جڑ سکتے ہیں جسے ہم سب سمجھ سکیں۔”
لونگ چھوان، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
8 بنگلہ دیشی فنکاروں نے تاریخی شہر لونگ چھوان کا ثقافتی دورہ کیا
فنکار مقامی مناظر اور روایتی فن ’سیلاڈون ‘سے متاثر ہوئے
سیلاڈون یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے
فنکاروں نے دورے کے دوران مختلف فن پارے تخلیق کئے
ثقافتی تبادلہ سیکھنے اور تخلیقی اظہار کا ذریعہ بن رہا ہے
بنگلہ دیشی مصور کے مطابق سرامک فن سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے
مصنف شاہد العالم فن کو زبان کی رکاوٹیں کم کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں
چین اور بنگلہ دیش کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی میں اضافہ ہو گیا
’سیلاڈون‘ فن دونوں ممالک میں روابط کو فروغ دے گا


