جوہانسبرگ (شِنہوا) جنوبی افریقہ کے وزیر برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع بلیڈ نزیمانڈے نے کہا ہے کہ ان کا ملک چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، صاف توانائی اور نوجوانوں کے تبادلے جیسے اہم شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے شِنہوا کو انٹرویو میں کہا کہ ہم چین کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں کافی وسیع تعلقات رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان نئے دور کی جامع تزویراتی شراکت داری کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت دوطرفہ تعاون کا سب سے اہم نیا شعبہ ہے، جس میں قوانین و ضوابط میں ہم آہنگی، محققین کے تبادلے اور علم کے اشتراک جیسے پہلو شامل ہیں۔
انہوں نے جنوبی افریقہ اور چین کے مشترکہ اے آئی تحقیقی نیٹ ورک کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تحقیقی پروگرام دونوں ممالک کے تعاون کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اے آئی کو شراکت داری میں سب سے اہم شعبوں میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کا نسبتاً ترقی یافتہ سائنسی و تکنیکی ماحول دیگر ترقی پذیر ممالک کو بااختیار بنانے میں مدد دے سکتا ہے اور امید ظاہر کی کہ چین اے آئی جامع تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
نزیمانڈے نے کہا کہ صاف توانائی بھی دوطرفہ تعاون کی ایک بڑی ترجیح ہے۔ جنوبی افریقہ چین کے ساتھ ہائیڈروجن توانائی، ماحول دوست امونیا اور کان کنی و توانائی سے متعلق کم کاربن ٹیکنالوجیز میں قریبی تعاون چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے پاس پلاٹینم گروپ معدنیات اور قابل تجدید توانائی کی بڑی صلاحیت موجود ہے، اس لئے ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی میں تعاون دونوں ممالک کے لئے ایک اہم موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس شعبے (صاف توانائی) میں چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوتے دیکھ رہے ہیں جو ہمارے لئے بہت اہم ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دوطرفہ اور بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے علاوہ دونوں ممالک برکس، جی20 اور یونیسکو جیسے کثیرجہتی فورمز پر بھی مل کر کام کر رہے ہیں جہاں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھ رہا ہے۔
نزیمانڈے نے سکوائر کلومیٹر ارے (ایس کے اے) منصوبے کو تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا۔ یہ ایک بین الاقوامی منصوبہ ہے جس میں جنوبی افریقہ اور چین سمیت کئی ممالک شامل ہیں اور اس کا مقصد جدید فلکیاتی تحقیق کو آگے بڑھانا ہے۔


