صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں 12 سال قبل لڑکیوں کیلئے لاکھوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونیوالا سکول تاحال کھل نہ سکا جس کی وجہ سے لڑکیوں کا تعلیمی سلسلہ شروع نہیں ہوسکا ہے جس سے اہلیان علاقہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق جھنگ شہر سے 40کلومیٹر دور واقع گائوں پیر کوٹ سدھانہ میں 2014 میں طالبات کیلئے ہائی سکول کی عمارت قائم کی گئی تھی اور اس نیک کام کیلئے ایک مقامی زمیندار نے 4کنال سے زائد زمین سرکار کو عطیہ کی تھی لیکن عمارت کے بند دروازے طالبات کیلئے کبھی نہ کھل سکے۔
اس حوالے سے زمین عطیہ کرنیوالے زمیندار حاکم خان نے بتایا ہے کہ میں نے زمین سکول کو عطیہ کی تھی مگر سکول کی تعمیر مکمل ہونے کے باوجود یہاں کلاسز شروع نہیں ہوئیں، عدم توجہ کے باعث سکول کی عمارت کی حالت دن بہ دن خستہ ہو رہی ہے اور گرنے کے قریب پہنچ چکی ہے، لاکھوں روپے کا نیا فرنیچر بھی خراب ہوکر استعمال کے قابل نہیں رہا جبکہ گائوں کی طالبات کو اب بھی حصول علم کیلئے دور دراز سفر کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر تعلیم پر حکومت کی توجہ نہیں ہے تو یہاں سلائی کڑھائی کا سکول بنا دیا جائے۔
اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ناصرہ پروین نے کہا ہے کہ یہ اب مسئلہ سامنے آگیا ہے کہ اس میں کلاسز ابھی تک شروع نہیں ہوئیں تو اس کیلئے اب ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائینگے تاکہ طالبات کا قیمتی وقت بھی ضائع نہ ہو اور انہیں اس عمارت سے فائدہ بھی پہنچے۔


