جنگ بندی مذاکرات کیلئے پاکستان آنیوالے ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کیلئے پاکستان کی جانب سے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کو لانے والے طیارے نے تہران سے 425 کلومیٹر دور بحیرہ کیسپین کے کنارے گورگان ایئر پورٹ سے ٹرانسپورنڈر بند کر کے اڑان بھری، اس حوالے سے پاکستانی ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
حفاظتی اقدامات کے تحت ایرانی طیارے کیساتھ پاکستانی لڑاکا طیاروں کے علاوہ ایک پاکستانی ایئر لائن کا طیارہ بھی اڑتا رہا جس کا ٹرانسپونڈر کھلا ہوا تھا، دنیا بھر کے ریڈار اس روٹ پر پاکستانی ایئر بس اے 321 طیارہ دیکھتے رہے جبکہ اس کیساتھ ایرانی ایئر بس اے 300 ٹرانسپونڈر بند کئے خاموشی سے اڑتا رہا، پاکستانی ایئر لائن کا طیارہ ایرانی طیارے کو نور خان ایئر بیس پر لینڈ کرا کر واپس اسلام آباد ایئر پورٹ کی جانب چلا گیا۔
ذرائع کے مطابق طیارے کا ٹرانسپونڈر بند ہونے سے وہ کمرشل طیاروں کی نگرانی کرنیوالے سکینڈری ریڈار پر نظر نہیں آتا، تاہم طیارے کو فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہونیوالے پرائمری ریڈار پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن ٹرانسپونڈر بند ہونے سے پرائمری ریڈار پر بھی اس طیارے سے متعلق بنیادی معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، یہ طیارہ پرائمری ریڈار پر صرف ایک نقطے کی صورت حرکت کرتا نظر آتا ہے۔


