واشنگٹن (شِنہوا) دی وال سٹریٹ جرنل (ڈبلیو ایس جے) نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم بعض نیٹو اتحادی ممالک کو سزا دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے جنہیں ٹرمپ ایران کے خلاف 39 روزہ امریکی-اسرائیلی جنگ میں غیر مددگار سمجھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام کے درمیان گردش کر رہا ہے اور اسے حمایت بھی حاصل ہے، اس کے تحت پینٹاگون ان نیٹو رکن ممالک سے امریکی فوج کو نکال کر ایسے ممالک میں تعینات کرے گا جو امریکی جنگی کوششوں کے لئے زیادہ معاون سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے میں کم از کم ایک یورپی ملک سپین یا جرمنی میں امریکی فوجی اڈے کو بند کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وہ ممالک جو تعاون کی بنیاد پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں ان میں پولینڈ، رومانیہ، لتھوانیا اور یونان شامل ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن میں شامل طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکا۔ اٹلی نے مختصر مدت کے لئے سیسیلی میں امریکی اڈے کے استعمال پر پابندی لگائی اور فرانس نے جنوبی فرانس میں صرف ان طیاروں کو اجازت دی جو ایران پر حملوں میں شامل نہیں تھے۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس جرمنی سے بھی ناخوش ہے کیونکہ جرمنی کے اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے ایران پر بڑے حملے کرنے کے فیصلے پر تنقید کی۔


