واشنگٹن (شِنہوا) وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اسلام آباد میں جلد شروع ہونے والے بند کمرے کے مذاکرات سے قبل ایک ترمیم شدہ امن منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
لیویٹ نے وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ میں کہا کہ صدر کی ریڈلائنز یعنی ایران میں یورینیم افزودگی کا خاتمہ، میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی مذاکرات پر آمادگی اس بات سے مشروط ہے کہ توانائی کے اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی یا تاخیر کے دوبارہ کھولا جائے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔
لیویٹ نے کہا کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔ یہ بات جنگ بندی میں شامل تمام فریقوں کو بتا دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اس معاملے پر صدر اور وزیراعظم نیتن یاہو، امریکہ و اسرائیل اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان بات چیت جاری رہے گی۔
لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملے کے حوالے سے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھنا چاہتا ہے یا پھر ان کے بقول اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔
عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ ایران اور امریکہ کی جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں، امریکہ کو انتخاب کرنا ہوگا کہ جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے مسلسل جنگ۔ وہ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ آیا وہ اپنے وعدوں پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایران کی اسلامی گارڈ کور نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان کے خلاف جارحیت فوری طور پر بند نہ ہوئی تو وہ جواب دے گی۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے بدھ کے روز لبنان بھر میں فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جس میں کم از کم 87 افراد جاں بحق اور 722 زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق دارالحکومت بیروت کے گنجان آباد علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔


