ہومپاکستاناین پی سی نمائندے کا پاک چین زرعی تعاون گہرا کرنے کے...

این پی سی نمائندے کا پاک چین زرعی تعاون گہرا کرنے کے لئے تبادلےبڑھانے پر زور

نان ننگ (شِنہوا) نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کی ایک نمائندہ لیاؤ یوینگ نے چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے بھینسوں کی صنعت میں تبادلےمضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور گوانگ شی ژوانگ خود مختار علاقے کے ماتحت بفیلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ لیاؤ نے کہا کہ ہم ہر سال سیکھنے کے مقاصد کے لئے پاکستانی تحقیقی اداروں کے ساتھ عملے کا تبادلہ کرتے ہیں جس سے ٹیلنٹ کی نشوونما ہوتی ہے اور چین اور پاکستان کے درمیان بھینسوں کی صنعت میں تعاون کو فروغ ملتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم ان تبادلوں اور تعاون کو مزید وسعت دیں گے اور مزید سائنسی تحقیق اور منصوبوں کو فروغ دیں گے۔

بھینسوں کی صنعت گوانگ شی کی مخصوص زراعت کا ایک اہم جزو اور پاک چین زرعی تعاون کا ایک کلیدی شعبہ ہے۔ حالیہ برسوں میں پاک چین جوائنٹ ریسرچ سینٹر فار بفیلو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں فریقوں نے اہم نتائج حاصل کئے ہیں جن میں پاکستان کو بیماریوں سے پاک پہلا چراگاہ قائم کرنے میں مدد دینا اور بھینسوں کے جنین کی پیداوار کے لئے سمندر پار مشترکہ لیبارٹری کا قیام شامل ہے۔

چینی اور پاکستانی تکنیکی ماہرین نے ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان میں پہلی بار ان ویٹرو جنین کی پیداوار، منجمد کرنے کی تکنیک ،منتقلی اور جینوم پر مبنی افزائش نسل جیسی بنیادی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی ہیں جس سے ڈیری بھینسوں کی افزائش نسل کی جدید تکنیکوں میں موجود خلا کو پر کیا گیا ہے۔

جون 2024 میں چین نے پاکستان سے 5 ہزار نیلی راوی بھینسوں کے جنین درآمد کئے۔ اپریل 2025 میں گوانگ شی کے شہر نان ننگ میں واقع پاک چین ڈیری بفیلو بریڈنگ ڈیمانسٹریشن فارم میں ان جنین سے کامیابی کے ساتھ بچھڑے پیدا ہوئے۔

اس مارچ میں جنین کی منتقلی کے ذریعے پہلی خالص نسل کی نیلی راوی مادہ بچھڑی گوانگ شی کی لنگ شان کاؤنٹی کے ایک فارم میں پیدا ہوئی جسے "چین کی ڈیری بھینسوں کا گھر” کہا جاتا ہے۔

اس کامیابی نے "اعلیٰ معیار کے غیر ملکی جنین اور مقامی وصول کنندہ گائے” کے تکنیکی روٹ کے امکان کی تصدیق کر دی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین کاؤنٹی کی سطح پر زیادہ دودھ دینے والی ڈیری بھینسوں کی افزائش نسل کو منظم طریقے سے فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیاؤ برسوں سے پاک چین زرعی تعاون گہرا کرنے کی وکالت کر رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ بھینسوں کی صنعت کو ایک سنگ میل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دوطرفہ سائنسی تبادلوں اور بیجوں کی صنعت میں مشترکہ اختراع کو مضبوط کیا جائے۔

لیاؤ نے کہا کہ بھینسوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں پاک چین تعاون صرف ٹیکنالوجی کی برآمد تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ جینیاتی وسائل کے باہمی تبادلے، ٹیلنٹ کی مشترکہ تربیت اور مربوط صنعتی ترقی کے بارے میں بھی ہے۔ مشترکہ تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے پاکستان کی بھینسوں کی افزائش کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور چین نے اعلیٰ معیار کے قیمتی جینیاتی وسائل حاصل کئے ہیں جس سے دونوں کو فائدہ ہوا ہے۔

تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لئے لیاؤ نے پاک چین جوائنٹ ریسرچ سنٹر کی مسلسل حمایت جاری رکھنے، بیج کی صنعت میں اختراع، جنین ٹیکنالوجی اور بیماریوں سے بچاؤ کے لئے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے کی تجویز دی۔

پاکستان اور دیگر ممالک کے ماہرین گوانگ شی واٹر بفیلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی لیبارٹری کا دورہ اور تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

انہوں نے زندہ جانوروں کی درآمد کے لئے راستے تلاش کرنے کی بھی تجویز دی تاکہ ڈیری بھینسوں کے جینیاتی وسائل کے دو طرفہ بہاؤ کو آسان بنایا جا سکے۔ انہوں نے ٹیلنٹ کے تبادلے اور تربیت کو مضبوط بنانے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین-آسیان آزاد تجارتی علاقے جیسے پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا تاکہ جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر ممالک کے ساتھ تجربات کا تبادلہ کیا جا سکے اور دنیا بھر میں بھینسوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکے۔

لیاؤ نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی تعاون چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ایک اہم حصہ ہے۔ بھینسوں کی صنعت اپنی ٹھوس بنیاد کے ساتھ وسیع صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ ریاستی حکام بھینسوں کے شعبے میں سائنسی اور صنعتی تعاون کو گہرا کرنے کے لئے تعاون میں اضافہ جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک میں اعلیٰ معیار کی زرعی ترقی اور لوگوں کے ذریعہ معاش میں بہتری لائی جا سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں