ہومتازہ ترینچین، خاتون  قانون ساز دیہی آبادی کی فلاح و بہبود بہتر بنانے...

چین، خاتون  قانون ساز دیہی آبادی کی فلاح و بہبود بہتر بنانے کیلئے کوشاں

چین نے ہمہ جہت عوامی جمہوریت کا نظام تشکیل دیا ہے جس کا مقصد مؤثر حکمرانی کو فروغ دینا، قومی ترقی کو تیز کرنا اور عوام کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا ہے۔

چین کی اعلیٰ ترین قانون ساز اسمبلی نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کے ارکان چین کی جمہوریت کے عملی نفاذ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ایک قومی قانون ساز شُو شیاؤچان کی آواز:

"جمہوریت صرف ایک نعرہ نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کا تعلق اس بات سے ہونا چاہئے کہ ہم نے کیا کام کِیا ہے اور کیا تبدیلی لائے ہیں۔”

صوبہ انہوئی کے شہر ہیفے سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شُو شیاؤچان نے سال 2023 میں قومی قانون ساز کے طور پر اپنی پانچ سالہ مدت کا آغاز کیا۔

انتخاب سے قبل وہ ایک مقامی طبی معاونت پروگرام کے تحت گاؤں کی ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکی تھیں۔

گاؤں میں طبی کارکن کے طور پر گزارے گئے ان دو برسوں نے قومی عوامی کانگریس کی رکن کی حیثیت سے ان کے احساسِ ذمہ داری اور مقصد کو گہرائی سے متاثر کیا۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): شو شیاؤچان، رکن، قومی عوامی کانگریس (این پی سی)

"میں نے جولائی 2019 میں ہوانگ جیان ٹاؤن شپ کے گاؤں چھِنگ شی میں بطور دیہی ڈاکٹر خدمات انجام دینا شروع کیں۔ یہ صوبہ انہوئی کے ان آخری دیہات میں سے ایک تھا جہاں سڑک، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولتیں پہنچی تھیں۔ جب میں وہاں پہنچی تو میں نے خود کو ایک ایسے گاؤں میں پایا کہ جہاں نہ کوئی کلینک تھا اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر۔”

شُو نے اپنے کام کا آغاز گھر گھر جا کر ملاقاتوں اور صحت سے متعلق ایک سروے سے کیا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): شو شیاؤچان، رکن، قومی عوامی کانگریس (این پی سی)

"جب میں وہاں پہنچی تو مجھے معلوم ہوا کہ گاؤں کے لوگوں کے صحت کے مسائل کافی پیچیدہ ہیں۔ کچھ شدید بیمار تھے اور کچھ گھروں میں زیرعلاج تھے۔ یہ مختلف نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا کئی طرح کے مریض تھے۔ چنانچہ میں نے پورے گاؤں کے سروے کے ذریعے صحت کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کر دیا۔”

شُو نے مقامی رہائشیوں اور گاؤں کے حکام سے بات چیت کی، ساتھی دیہی ڈاکٹروں کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کیا اور دیہی صحت کے نظام میں بہتری کے طریقے تلاش کئے۔

چین کی اعلیٰ مقننہ کے سالانہ اجلاس سال 2023 میں شُو نے قومی قانون ساز کے طور پر اپنی پہلی تجویز پیش کی جو چھِنگ شی گاؤں میں ان کے اپنے مشاہدات پر مبنی تھی۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): شو شیاؤچان، رکن، قومی عوامی کانگریس (این پی سی)

"اپنی پہلی تجویز میں میں نے دیہی صحت کے حالات پر اپنے مشاہدات اور اسے بہتر بنانے کے بارے میں اپنے خیالات شامل کئے ۔ میری بنیادی توجہ اس بات پر تھی کہ دیہات کے رہائشیوں کو اپنے گھروں کے قریب ڈاکٹروں کی سہولت میسر ہو۔”

شُو شیاؤچان کی تجویز کو اعلیٰ قانون ساز ادارے نیشنل پیپلز کانگریس (NPC) نے بے حدسراہا۔ متعلقہ محکموں نے اس کے بعد کئی مواقع پر ان سے مشورہ کیا جہاں انہوں نے اپنے خیالات شیئر کئے اور بہتری کے اقدامات پر بات کی۔

شہر واپس جانے کے کئی سال بعد بھی شُو گاؤں کے لوگوں سے باقاعدہ رابطہ رکھتی ہیں اور علاج کے حوالے سے مریض کو مناسب ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس بھیجنے کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

اس سے انہیں بہتر اندازہ ہوا کہ گاؤں کے لوگ گاؤں کے باہر علاج کے لئے ہسپتال پہنچنے میں کن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

سال 2024 اور 2025 میں سالانہ نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاسوں میں شُو نے دیہی علاقوں کے لوگوں کے بہتر علاج کے لئے طریقہ کار اور نظام میں بہتری کے لئے تجاویز پیش کیں۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): شو شیاؤچان، رکن، قومی عوامی کانگریس (این پی سی)

"اگر آپ پالیسی بنانے کے لئے کوئی تجویز پیش کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے دیہی آبادیوں کی ضروریات، موجودہ طبی نظام کی صلاحیت اور آئندہ پالیسی کے امکانات سمیت ساری صورتحال کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔ یہ سب بہت اہم ہیں۔ ہمیں ہر پہلو پر غور کرنا ہوگا، مکمل تحقیق کرنی ہوگی اور پھر مخصوص اور مؤثر تجاویز پیش کرنی ہوں گی۔”

اپنے دفتری فرائض کے علاوہ شُو نے قومی صحت کے حکام کے ساتھ مل کر طبی اور مریضوں کے ریفرل نظام پر فیلڈ ریسرچ میں بھی شریک رہیں۔

انہوں نے اپنے کام کے نوٹس باقاعدگی سے لکھنے کی عادت برقرار رکھی ہے جو انہیں قومی اسمبلی کی نمائندہ کے طور پر لوگوں کی پریشانیوں اور مسائل کو غور سے سننے کی اپنی ذمہ داری یاد دلاتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): شو شیاؤچان، رکن، قومی عوامی کانگریس (این پی سی)

"میرے خیال میں ایک این پی سی کی رکن کی سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کی بات کو دھیان سے سنے اور پھر تحقیق اور تجزیہ کے ذریعے مسائل کو گہرائی میں سمجھے۔

ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار قومی قانون ساز ہیں۔ وہ ہر شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر کسی کی اپنی ترجیحات اور مسائل ہیں۔ میری ترجیح دیہی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ صرف اسی شعبے پر توجہ دے کر میں حقیقی مسائل حل کر سکتی ہوں جسے میں اچھی طرح جانتی ہوں ۔ یقیناًئے عام لوگوں تک مناسب طبی سہولت پہنچانا بہت اہم مسئلہ ہے۔ اسی لئے میں نے بطور رکن این پی سی اسے اپنی اولین ترجیح بنا لیا ہےاور دیہات کے لوگوں کو علاج کے سلسلے میں مدد فراہم کرتی ہوں”

رواں برس شُو ایسی تجاویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جن میں ایک مشترکہ ریفرل نیٹ ورک کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ اس تجویز کا مقصد مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

چین نے دنیا کا سب سے بڑا صحت کا نظام قائم کر لیا ہے جس کے تحت ملک کے 90 فیصد سے زیادہ گھرانے 15 منٹ کے اندر قریب ترین طبی مرکز تک پہنچ سکتے ہیں۔

چین میں کم آمدنی والے 99 فیصد سے زیادہ افراد اور دیہی علاقوں میں غربت سے نکلنے والے لوگ اب میڈیکل انشورنس کی سہولت بھی حاصل کر رہے ہیں۔

چین کے چودھویں پانچ سالہ منصوبے (2021 تا 2025) کے دوران شدید بیماری کے بیمہ سمیت معاون پالیسیوں کے ذریعے دیہات کے کم آمدنی والے افراد کے لئے 67 کروڑ 30 لاکھ طبی معائنے ممکن بنائے گئے۔

تحصیل یا قصبے کی سطح کے تقریباً 70 فیصد صحت مراکز اب بڑے ہسپتالوں کے ساتھ آن لائن تعاون کے نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔

ہسپتالوں کے وارڈز سے لے کر دیہات کے گھروں تک اور مقامی سطح کی تحقیق سے قومی مقننہ تک شُو شیاؤچان مریضوں اور ڈاکٹروں کے روزمرہ مسائل کو ہر جگہ اپنے ساتھ لے کر چلتی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 6 (چینی): شو شیاؤچان، رکن، قومی عوامی کانگریس (این پی سی)

"بطور این پی سی رکن میں اپنے سب سے اہم کردار کو حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا ایک پل سمجھتی ہوں۔ میرے نزدیک پورے عمل پر مشتمل عوامی جمہوریت میں سب کی شرکت شامل ہوتی ہے۔اس بات سے قطع نظر کہ آپ کہاں ہیں جب لوگوں کی آوازیں یکجا ہو جائیں تو وہ ضرور سنی جاتی ہیں۔”

ہیفے، چین سے شنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

چین میں عوامی فلاح کیلئے ہمہ جہت جمہوری نظام قائم ہے

قومی عوامی کانگریس کے ارکان جمہوری عمل کا اہم ستون ہیں

شو شیاؤچان 2023 میں قومی قانون ساز منتخب ہوئیں

دیہی ڈاکٹر کے تجربے نے ان کی سوچ کو بدلا

چھِنگ شی گاؤں میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں

انہوں نے گھر گھر جا کر صحت کا سروے کیا

دیہی صحت کے مسائل نے ان کی پہلی تجویز کی بنیاد رکھی

ان کی توجہ دیہاتیوں کو دہلیز پر ڈاکٹر کی سہولت فراہم کرنا ہے

انہوں نے درجہ وار علاج نظام میں بہتری کی تجاویز دیں

عوام کی بات سننا قانون ساز کی بنیادی ذمہ داری ہے

چین میں نوے فیصد گھرانے پندرہ منٹ میں طبی مرکز پہنچتے ہیں

شُو خود کو حکومت اور عوام کے درمیان پل سمجھتی ہیں

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں