ہومپاکستانسینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، ایف بی آر ترمیمی بل منظور

سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، ایف بی آر ترمیمی بل منظور

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر ترمیمی بل بحث کے بعد منظور کرلیا۔

بدھ کو سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سینیٹر رانا ثنا اللہ کی جانب سے پیش کردہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مصطفی امپکس کیس میں وزیراعظم سے اختیار وفاقی کابینہ کو دیا اس کے تحت ایف بی آر ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے، ٹیکس پالیسی بورڈ بھی وزارت خزانہ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ترمیم سے سارا اختیار چیئرمین ایف بی آر کو دیا جا رہا ہے، موجودہ چیئرمین ایف بی آر کا ٹیکس شعبے میں کوئی تجربہ نہیں، ایف بی آر ایک ٹیکنیکل محکمہ ہے، اس کے محکمہ کا ہی فرد چیئرمین مقرر ہونا چاہئے، اس ترمیم سے موجودہ چیئرمین کو لامحدود اختیارات مل جائیں گے۔

چیئرمین ایف بی آر جس کو چاہے گا ممبر مقرر کر دے گا اور جس کو چاہے گا تبدیل کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے افسران کے اثاثے ان کی تنخواہ کے مطابق نہیں، ٹیکس وصولی میں کمی ہو رہی ہے، لوگ 10لاکھ روپے ٹیکس دینے کی بجائے 20لاکھ دے کر ایف بی آر سے جان چھڑاتے ہیں، ملک میں ٹیکس نظام کو ٹیکس دہندہ دوست بنانا چاہئے، میں اس مجوزہ ترمیمی بل کی مخالفت کرتا ہوں۔

وزیر خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ ٹیکس پالیسی بورڈ کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ منتقل کر دیا گیا ہے، سارے افسران رواں سال سے اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں گے، اگر کسی سینیٹر کے پاس کسی ٹیکس حکام کیخلاف شکایات ہیں تو سامنے لائیں کارروائی کی جائے گی۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایف بی آر کے ممبران کے تقرر کا اختیار چیئرمین ایف بی آر کو دیا گیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ 2007سے ایسا ہی ہے، ایف بی آر کا اپنا قانون ہے۔

سینیٹر شاہزیب درانی نے کہا کہ یہ انتظامی معاملہ ہے، اس میں وفاقی وزیر خزانہ کو شامل نہ کیا جائے۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ایف بی آر میں 78سے زیادہ گریڈ 21کے افسران ہیں جن کا اکثر ٹرانسفر ہوتا رہتا ہے، ایسا ماضی سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔

سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ میں ٹیکس پالیسی بورڈ کا ممبر ہوں، مگر اس کا اجلاس نہیں ہوا، بلال اظہر کیانی نے کہا کہ میں بھی اس کا ممبر رہا مگر اجلاس کبھی نہیں ہوا۔

بحث مباحثے کے بعد قائمہ کمیٹی نے مجوزہ ایف بی آر ترمیمی بل 2026ء منظور کرلیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں