ٹوکیو (شِنہوا) جاپانی شہریوں کی بڑی تعداد نے دارالحکومت ٹوکیو میں وزیراعظم تاکائیچی کی طرف سے آئینی ترامیم کے عمل کو تیز کرنے، عسکری صلاحیتوں میں اضافے اور قومی انٹیلی جنس کے کام کو مستحکم کرنے جیسی پالیسیاں اختیار کرنے کی خطرناک روش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ملک کی مستقبل کی سمت کے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا۔
مظاہرے کا اہتمام شہری تنظیموں نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ مظاہرین ایوان نمائندگان کی سیکنڈ ممبرز آفس بلڈنگ کے سامنے جمع ہوئے۔ مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر ‘‘آئینی ترامیم کی مخالفت‘‘ اور "فاشزم کو اس کے پنجرے سے آزاد نہ کرو” کے نعرے درج تھے جبکہ مظاہرین نے ‘‘جنگ نہیں’’ کے نعرے بھی لگائے۔
مظاہرین میں شامل ایک خاتون نوریکو کاشی کاوا نے صحافیوں کو بتایا کہ میں تاکائیچی کے پالیسی ایجنڈے کی سو فیصد مخالفت کرتی ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جاپان کو ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہنے کی صورتحال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، اگر ملک کو مسلسل تنازعات کی طرف لے جایا گیا تو بالآخر اس کا اختتام اپنی تباہی خود کرنے پر ہو گا۔
مظاہرین میں بہت سے نوجوان بھی شامل تھے۔ یونیورسٹی کی ایک طالبہ متسوبارا نے کہا کہ انہیں حکومت کے حالیہ پالیسی اقدامات پر تشویش ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ یہ تمام پالیسیاں جنگ شروع کرنے کی تیاری ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت عوام کی آواز کی مزید درستگی سے سمجھے گی۔


