لان ژو (شِنہوا) بہت سے چینی نوجوانوں نے ملک کے سب سے اہم تہوار، بہار تہوار کو ایک نیا روپ دینے میں پیش قدمی کی ہے۔ وہ تخلیقی اخراجات کے ذریعے روایات اور اپنی ذاتی پسند کا ایک حسین امتزاج پیش کر رہے ہیں۔
چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کے دارالحکومت لان ژو کے 27 سالہ رہائشی لیو ہاؤ
نے نئے چینی سال کی شام باورچی خانے میں گھنٹوں گزارنے کے بجائے تیار شدہ پکوان آن لائن منگوائے جن میں ملک کے دیگر حصوں کے لذیذ کھانے شامل تھے۔
لیو نے لائٹ کوکنگ کے اس آرام دہ انداز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف ان کھانوں کو گرم کر کے پلیٹوں میں سجانا تھا۔ یہ کھانے نہ صرف لذیذ تھے بلکہ تصاویر میں بھی بہت اچھے لگ رہے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میرے والدین کو سارا دن کچن میں قید نہیں رہنا پڑا۔
نیا چینی سال یا بہار تہوار اس سال 17 فروری کو منایا گیا۔ دوئن ای کامرس پلیٹ فارم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 16 سے 29 جنوری کے دوران نئے سال کی شام کے کھانے سے متعلق مصنوعات کی خرید و فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
لائف سٹائل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈ نوٹ پر ہیش ٹیگ "میں ہوں بہار کے تہوار کا منتظم” کو 2.42 ارب سے زیادہ ویوز مل چکے ہیں۔ اب زیادہ سے زیادہ نوجوان محض شرکت کرنے کے بجائے اپنے خاندان کی تقریبات کے "میزبان” بن رہے ہیں اور فعال طور پر ان خوشیوں کو اپنی مرضی کا رنگ دے رہے ہیں۔
لان ژو کی ایک سرکاری ملازمہ چھن چھی نے اپنے خاندان کی تہوار سے متعلق خریداری کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔
33 سالہ چھن نے بتایا کہ پہلے میں تہوار کے کھانے پینے کی اشیاء کا ذخیرہ جمع کرنے اپنے والدین کے ساتھ پرہجوم بازاروں میں جایا کرتی تھی۔ اب میری ترجیح سمارٹ اور جدید ٹیکنالوجی والی اشیاء ہیں جو خوشی اور سکون کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے اپنی "الیکٹرانک نیو ایئر گڈز” کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے لئے فرش صاف کرنے والی ایک سمارٹ مشین اور اپنے والدین کے لئے گردن کا مساج کرنے والا آلہ خریدا ہے۔


