پشاور (لارڈ میڈیا): خیبر پختونخوا اسمبلی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے لاہور میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔ وزیر قانون آفتاب عالم نے یہ قرارداد ایوان میں پیش کی، جسے رائے شماری کے دوران کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا اور سیکیورٹی سے الگ کر دیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود منتخب نمائندے کی سیکیورٹی کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
قرارداد کے مطابق وزیراعلیٰ کو اس انداز میں روکنا آئین کے آرٹیکل 4، 9 اور 25 کے منافی ہے۔ کسی صوبے کی پولیس کو منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک کرنے کا حق نہیں۔
قرارداد میں لاہور واقعے کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی منتخب نمائندوں کے آئینی حقوق اور سیکیورٹی کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔


