ریاض (لارڈ میڈیا): یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے شہروں خمیس مشیط، ابہا اور طائف پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جن کے نتیجے میں 13 افراد زخمی ہو گئے۔ سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کے مطابق ان حملوں میں 7 مکانات اور 2 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثیوں کے یہ حملے دہشت گردی کی ایک اور مثال ہیں، جن کی وجہ سے کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتحادی افواج سعودی عرب کی خودمختاری اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے سخت کارروائی کرے گی، جو بین الاقوامی قانون کے تحت ہوگی۔
سعودی سول ڈیفنس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظت کے لیے ہدایات پر عمل کریں، ہجوم سے بچیں اور ویڈیو بنانے سے گریز کریں۔ ہنگامی صورتحال میں 911 پر کال کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی سعودی طیاروں کے یمن پر 54 حملوں کے جواب میں کی گئی تھی۔ قبل ازیں حوثیوں نے سعودی کنگ خالد ائیر بیس پر بھی میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
یاد رہے کہ 2014 سے یمن میں جاری جنگ میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد سعودی اتحاد نے 2015 میں فوجی مداخلت کی تھی۔


