ہومتازہ ترینچین کے اے آئی ماڈلز خطرات نہیں، جدت اور مواقع لارہے ہیں

چین کے اے آئی ماڈلز خطرات نہیں، جدت اور مواقع لارہے ہیں

بیجنگ (شِنہوا) چین کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز نے مسلسل جدت اور عالمی ترقی کے لئے مواقع فراہم کئے ہیں اور اب یہ دنیا بھر میں اے آئی کی پیش رفت کو تقویت دینے والے اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا حصہ بن چکے ہیں۔

شنگھائی میں ہونے والی 2026 ورلڈ اے آئی کانفرنس اور اس سے قبل متعدد مواقع پر چین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اے آئی کی ترقی کے لئے اوپن سورس، باہمی تعاون اور اشتراک پر مبنی طریقہ کار کی حمایت کرتا ہے تاکہ تکنیکی جدت، صنعتی ترقی اور حقیقی دنیا میں اس کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے اور تمام شعبوں اور عوام کو فائدہ پہنچے۔

جبکہ بعض امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں کلوزڈ سورس حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اجارہ داری برقرار رکھنے کے لئے تکنیکی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چینی کمپنیاں عالمی اوپن سورس تحریک کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ دنیا کے زیادہ تر اعلیٰ کارکردگی والے اوپن سورس لارج لینگویج ماڈلز چین سے آتے ہیں جن کے مجموعی ڈاؤن لوڈز کی تعداد 10 ارب سے تجاوز کر چکی ہے جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے۔

اس کا اثر عملی طور پر بھی نمایاں ہے۔ چینی اے آئی ماڈلز کا اوپن سورس طریقہ کار امریکی کمپنیوں سمیت دنیا بھر کے کاروباروں کو کم لاگت کے موثر حل فراہم کرتا ہے۔ عالمی سطح کے معروف اے آئی پلیٹ فارم اوپن روٹر پر جولائی میں سب سے زیادہ مقبول پانچوں ماڈلز چین سے تعلق رکھتے تھے۔ ایئر بی این بی اور پن ٹرسٹ سمیت امریکہ کی معروف کمپنیوں کے علاوہ یورپی کار ساز کمپنیاں بھی اپنی سرگرمیوں اور مصنوعات کو بہتر بنانے کے لئے بڑے چینی لسانی ماڈلز استعمال کر رہی ہیں۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ چینی اے آئی ماڈلز ترقی پذیر ممالک میں ڈویلپرز اور کاروباری اداروں کے لئے رکاوٹیں کم کر رہے ہیں جس سے وہ اپنی شرائط پر ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔ چینی اوپن ویٹ ماڈلز کی بنیاد پر مقامی ڈویلپرز اپنی ضروریات کے مطابق مصنوعات تیار کر سکتے ہیں، مقامی خدمات فراہم کر سکتے ہیں اور ڈیٹا پر خودمختاری برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی اور کے محدود اور محفوظ باغ میں جگہ کرائے پر لینے کے بجائے اپنی زمین پر اپنا گھر تعمیر کرے۔

مثال کے طور پر چینی کمپنیوں نے عربی زبان کے اے آئی ماڈل تیار کئے ہیں جو عام عربی بولنے والوں کو مقامی زبان میں تقریر پیدا کرنے کی سہولت کے ذریعے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی زیادہ آسانی سے استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

40 سے زائد ممالک کے محکمہ موسمیات نے کلاؤڈ کے ذریعے ابتدائی موسمی انتباہی خدمات کے لئے چین کے اے آئی سے چلنے والے "ماذو ماڈل” کو استعمال کیا ہے۔ اس کے حسب ضرورت تیار کردہ ورژن پاکستان، ایتھوپیا اور سولومن جزائر سمیت 7 ممالک میں بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ اس نوعیت کے تعاون کے متعدد منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ چینی اے آئی ماڈلز موثر، محفوظ اور کم لاگت ہیں۔

تو پھر بعض مغربی سیاست دان منفی الزامات کیوں گھڑتے ہیں؟ ان بیانات کے پس پردہ تزویراتی تشویش اور دوسرے کے نقصان کے بدلے فائدے کی فرسودہ ذہنیت کارفرما ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جن ماڈلز پر امریکی مفادات کے لئے خطرہ بننے کا الزام عائد کیا گیا، انہی ماڈلز کو اب امریکی صنعت اپنے ہی اختراعی نظام کے لئے اہم قرار دے رہی ہے۔ این ویڈیا، مائیکروسافٹ اور میٹا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سٹارٹ اپس نے مشترکہ طور پر ایک خط جاری کیا ہے جس میں پالیسی سازوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اوپن ویٹ ماڈلز پر پابندیاں عائد نہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز مسابقت کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے فوائد چند ہاتھوں تک محدود رہنے کے بجائے وسیع پیمانے پر تقسیم ہوں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں