منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرائی پھیلاؤ (یو این سی سی ڈی) کے فریقین کی کانفرنس (کوپ 17) کا 17واں اجلاس جاری ہے۔
اس موقع پر ’’چائنہ کارنر‘‘ کے عنوان سے ایک نمائش میں صحرائی پھیلاؤ سے نمٹنے کے حوالے سے چین کے تجربات اور کامیابیوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
صحرائی پھیلاؤ کے خلاف چین کی غیر معمولی جدوجہد بڑے پیمانے پر جاری ہے۔
چین ان ممالک میں شامل ہے جو صحرائی پھیلاؤ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ چین کے شمال مغربی، شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں وسیع و عریض خشک خطے پھیلے ہوئے ہیں۔
چین نے سال 1978 سے ماحولیات کے تحفظ کے لئے کئی بڑے منصوبے شروع کئے جن میں تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ فاریسٹ پروگرام (ٹی ایس ایف پی) بھی شامل ہے۔ اسے دنیا کے سب سے بڑےشجرکاری پروگرام کے طور پر مانا جاتا ہے۔
آج چین نے اپنی قابلِ بحالی متاثرہ بنجر زمین کے 53 فیصد رقبے کو بحالی کے دائرے میں لے لیا ہے۔ یہ رقبہ حالیہ برسوں کے دوران عالمی سطح پر نئے بننے والے سرسبز علاقوں کا تقریباً ایک چوتھائی بنتا ہے۔
ملک کے اندر حاصل ہونے والی پیش رفت کے ساتھ ساتھ چین نے دنیا بھر میں اپنے عملی تجربات اور مہارت سے متعلق آگاہی دینے کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔
چین نے صحرائی پھیلاؤ سے نمٹنے کے لئے عرب ممالک، منگولیا اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون کے پلیٹ فارم قائم کئے۔
چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبےسے وابستہ ممالک کو بھی صحرائی پھیلاؤ کے خاتمے کی کوششوں میں معاونت فراہم کی اور عالمی ماحولیاتی نظم و نسق کے لئے چینی تجربات اور حل شیئر کئے۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): یاسمین فواد، ایگزیکٹو سیکرٹری، اقوام متحدہ کنونشن برائے انسدادِ صحرائی پھیلاؤ (یو این سی سی ڈی)
’’میں جولائی کے وسط میں چین میں تھی۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہاں کے لوگوں کی لگن اور عزم قابلِ ذکر ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کتنے برسوں سے زمین کی بحالی کا کام کر رہے ہیں۔
دوسری بات ان کی ٹیکنالوجی ہے۔ وہ جغرافیائی معلومات کے تجزیے کی انتہائی مضبوط جدید ٹیکنالوجی رکھتے ہیں۔
اور تیسری بات جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ یہاں ہمارے سامنے حل بھی موجود ہیں۔ ہمیں ان پر تیزی سے عمل درآمد کرنے، انہیں دوسری جگہوں پر بھی اپنانے اور بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی ضرورت ہے۔‘‘
اولان باتور سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


