بلغراد (شِنہوا) اقوام متحدہ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ عالمی نظم و نسق کثیر قطبی دنیا میں چین کے بڑے گلوبل انیشی ایٹو سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔
2012 سے 2013 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور 2007 سے 2012 تک سربیا کے وزیر خارجہ رہنے والے ووک جیریمچ نے شِنہوا کو ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ "چین کے 4 انیشی ایٹو مل کر اقدار اور اصولوں کا ایک نہایت اہم مجموعہ پیش کرتے ہیں جنہیں میری رائے میں موجودہ نظام پر لاگو کیا جانا چاہیے تاکہ اسے تبدیل کیا جا سکے۔‘‘
جیریمچ اس وقت بلغراد میں قائم عالمی عوامی پالیسی کے تھنک ٹینک، مرکز برائے بین الاقوامی تعلقات و پائیدار ترقی کی سربراہی کر رہے ہیں۔
جیریمچ چین کی جانب سے پیش کئے گئے بڑے گلوبل انیشی ایٹوز کے سلسلے کا حوالہ دے رہے تھے جن میں گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو شامل ہیں۔
عالمی منظرنامے کے ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے جیریمچ نے کہا کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ "طاقت کا کوئی ایک مرکز ایسا نہیں جو باقی تمام مراکز پر غلبہ رکھتا ہو۔” ان کے مطابق دنیا کثیر قطبیت کی جانب بڑھ چکی ہے تاہم ایک نیا کثیر قطبی عالمی نظام ابھی مکمل طور پر قائم نہیں ہوا۔
جیریمچ نے کہا کہ کثیر قطبی دنیا کا ظہور زیادہ تعاون پر مبنی عالمی نظام کی ضمانت نہیں دیتا۔
جیریمچ نے مسابقتی، منظم اور باہمی تعاون پر مبنی کثیر قطبیت کی 3 ممکنہ شکلیں بیان کیں۔ مسابقتی کثیر قطبیت میں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کی قانونی حیثیت تسلیم کئے بغیر شدید مقابلہ کریں گی، جس سے تنازع کے خطرات بڑھیں گے۔ منظم کثیر قطبیت میں طے شدہ قواعد اور حدود کے اندر مسابقت ہوگی تاکہ غلط فہمیوں اور کشیدگی میں اضافے کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب تعاون پر مبنی کثیر قطبیت میں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے وجود، قانونی حیثیت اور حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجیوں کے ضابطے جیسے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کریں گی۔
جیریمچ نے کہا کہ ’’کثیر قطبیت کی یہ تیسری شکل، یعنی تعاون پر مبنی کثیر قطبیت ایسی چیز ہے جس کی ہم سب کو امید کرنی چاہیے۔‘‘
جیریمچ نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران چین کی ترقی کو بھی سراہا اور اسے ’’انسانی ترقی کی تاریخ میں سب سے کامیاب تجربہ‘‘ قرار دیا۔


