واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے کے بعد اس میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا ہے اور تہران کو جنگ کے خاتمے کے لیے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں توسیع کا خواہاں نہیں، جو پیر کو اپنی مدت پوری کرچکی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم ایران کی پاسداران انقلاب سے مذاکرات کر رہی ہے تاہم ایرانی پاسداران انقلاب نے اس دعوے کی تردید کردی ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے کے بعد ایران امریکا کے خلاف زیادہ سخت حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث مذاکرات کے لیے مقرر کردہ 60 روز کی مدت اب بے معنی ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق ایران کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا اور حملے کی صورت میں جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے اور امریکا کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول کے دعووں نے خطے میں تشویش مزید بڑھا دی ہے۔


