ہومتازہ ترینچین نے ثابت کیا تنزلی کا شکار زمین بحال ہو سکتی ہے،...

چین نے ثابت کیا تنزلی کا شکار زمین بحال ہو سکتی ہے، اقوام متحدہ اعلیٰ عہدیدار

اولان باتور (شِنہوا) تقریباً نصف صدی سے چین نے اپنے بنجر اور نیم بنجر شمالی علاقوں میں دنیا کے سب سے بڑے اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے ماحولیاتی بحالی کے پروگراموں میں سے ایک پر عملدرآمد کیا ہے۔

صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام کے امور کے متعلق اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ کاوش دنیا بھر میں زمین کے بگڑتے حالات کے پیش نظر ایک انتہائی اہم مثال پیش کرتی ہے اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ نقصان روکا اور پلٹا جا سکتا ہے۔

صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام کے متعلق اقوام متحدہ کنونشن کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے جولائی کے وسط میں چین کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے بعد شِنہوا کو دیئے گئے ایک تحریری انٹرویو میں چین کے طویل المدتی طرز عمل اور بحالی کے عمل کو روزگار اور دیہی معاش سے جوڑنے کی کوششوں کو سراہا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ 278 ارب امریکی ڈالر سالانہ کے مالیاتی خسارے کی وجہ سے عالمی سطح پر زمین کی بحالی کے وعدے زیادہ تر کاغذی کارروائی تک محدود رہنے کا خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ "چین اس بات کی سب سے واضح اور بڑے پیمانے پر سامنے آنے والی مثالوں میں سے ایک بن گیا ہے کہ زمین کے بگاڑ کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔”

یاسمین فواد نے کہا کہ دنیا نے 2030 تک تنزلی کا شکار ایک ارب ہیکٹر سے زائد زمین بحال کرنے کا عزم کیا ہے۔ اب کوپ 17 میں شریک حکومتوں کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس عزم کو اتنی تیزی سے عمل میں بدل سکتی ہیں یا نہیں۔

کانفرنس کے آغاز پر یاسمین فواد نے کہا کہ "دنیا میں حل کی کوئی کمی نہیں ہے، اصل چیلنج انہیں بڑے پیمانے پر نافذ کرنا ہے۔ لہٰذا کوپ 17 کو عملی جامہ پہنانے کی کانفرنس بننا چاہیے۔”

چین نے نگرانی کے حالیہ ادوار کے دوران صحرائی اور ریتلے علاقوں میں مسلسل کمی کی اطلاع دی ہے۔ یاسمین فواد نے اس پیشرفت کو کئی دہائیوں پر محیط تسلسل والی پالیسیوں، صحرائی روک تھام کے ایک مخصوص قانون اور ماحولیاتی انتظام و انصرام کی وسیع تر اصلاحات کے ساتھ ساتھ سیٹلائٹ مانیٹرنگ، زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی اور مٹی کے تحفظ کے اقدامات سے منسوب کیا ہے۔

تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ فاریسٹ پروگرام اس وسعت اور صبر آزما محنت کی عکاسی کرتا ہے جو اس میں پوشیدہ ہے۔ 1978 میں شروع ہونے والی یہ پٹی 4 ہزار کلومیٹر سے زائد پھیلی ہوئی ہے،اور یہ پروگرام 2050 تک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے اہم پیشرفتوں میں سے ایک وہ کوشش ہے جس کے ذریعے بحالی کے عمل کو کاشتکاری، چراگاہوں، دیہی معاش اور نئے معاشی مواقع کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

یاسمین فواد نے کہا کہ "ماحولیاتی بحالی کے لئے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے جو سالوں میں نہیں بلکہ دہائیوں میں ہوتی ہے۔ بحالی کے عمل کو الگ تھلگ منصوبوں سے آگے بڑھ کر قومی منصوبہ بندی اور طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملیوں کا حصہ بنانا ہوگا۔”

انہوں نے کہا کہ چین کا تجربہ افریقہ، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے لئے بالخصوص مفید ثابت ہو سکتا ہے جہاں ممالک کو خشک سالی، پانی کی قلت، زمین کے بگاڑ اور دیہی کمزوری جیسے یکساں دباؤ کا سامنا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں