چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر شین زین میں غیر ملکی سیاح جدید ترین ٹیکنالوجی کے عملی تجربے کے لئے بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔
شین زین میں مختلف نوعیت کے نئے کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ ہواوے، ٹین سینٹ، بی وائی ڈی، ڈی جے آئی اور یو بی ٹیک جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی موجود ہیں جبکہ شہر عملی خریداری کے تجربات کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کو صارفین کے مزید قریب لا رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ولیم گرینجر، برطانوی سیاح
’’یہ واقعی بہت زبردست ہے۔ برطانیہ میں آپ کو اس طرح کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ صرف ایک کتاب لینا اور پھر لیزر کے ذریعے اس پر تصویر پرنٹ ہوتے دیکھنا واقعی بہت اچھا ہے۔
اگر آپ طویل فاصلے تک دوڑنا پسند کرتے ہیں تو یہ ایکسواسکیلیٹن آپ کو زیادہ دور تک جانے میں مدد دے گا۔ اور اگر آپ کو حرکت کرنے میں مدد کی ضرورت ہو تو اس کے ذریعے آپ زیادہ آسانی سے حرکت کر سکتے ہیں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ڈینیئلا، جمیکن سیاح
’’میرے خیال میں وہاں موجود سرمئی رنگ کا روبوٹ بڑی حد تک انسانوں جیسا ہے۔ اس کے بہت سے جوڑ ہیں اور یہ بہت اچھی طرح حرکت کر سکتا ہے۔ اس بات نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور اس کی تمام چیزوں خاص طور پر تمام جوڑوں کو ایک ساتھ حرکت دینے کے لئے جو کوڈنگ درکار ہے وہ بھی بہت متاثر کن ہے۔
(سوال، کیا آپ چینی روبوٹ خریدنے کے بارے میں سوچیں گی؟)
اوہ، سو فیصد۔ مجھے واقعی گھر میں زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ مجھے کوئی ایسا چاہئے جو مجھے سونے سے پہلے کہانیاں پڑھ کر سنائے اور میرے لئے کھانا پکائے۔
اس لئے میں روبوٹس سے کچھ مدد ضرور لینا چاہوں گی۔ یہ روبوٹس ایسا کر سکتے ہیں۔ میں انہیں اپنے رقص کے کچھ انداز بھی سکھا سکتی ہوں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ژانگ لِن وان، ملازم، آئی این این او 100 گلوبل انوویشن فلیگ شپ اسٹور
’’ہم نے گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے۔
غیر ملکی سیاحوں کو متوجہ کرنے کی ایک وجہ خاص طور پر جدید مصنوعات کے حوالے سے ہمارا فراہم کردہ تجربہ بھی ہے۔ہم کسی بھی پروڈکٹ کے پیچھے ڈیزائنر کے اصل تصور کے بارے میں آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس پروڈکٹ کو روزمرہ زندگی میں کس طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور وجہ یہ ہے کہ ہمارا اسٹور ٹیکس ریفنڈ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غیر ملکی سیاح اکثر یہی مصنوعات یہاں کم قیمت پر خرید سکتے ہیں۔‘‘
شین زین، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


