بیجنگ (شِنہوا) شِنہوا نیوز ایجنسی سے وابستہ ایک قومی سطح کے اعلیٰ تھنک ٹینک نے چین کے ایکالوجیکل و انوائرمنٹل ضابطے سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ ہفتے کے روز سے یہ اہم قانون باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا ہے۔
تقریباً 19 ہزار چینی حروف پر مشتمل رپورٹ میں ضابطے کے تاریخی پس منظر اور اہمیت کا جامع جائزہ لیا گیا ہے، اس کی قانون سازی میں کی جانے والی جدتوں اور منفرد چینی خصوصیات کی وضاحت کی گئی ہے جبکہ اس کی عالمی اہمیت اور خدمات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں اسے دنیا کا پہلا ضابطہ قرار دیا گیا ہے جس کے نام میں واضح طور پر ایکالوجیکل انوائرمنٹ کا ذکر ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ قانون ایک ایسا اہم سنگ میل ہے جو نئے دور میں ماحولیاتی تہذیب کے فروغ اور قانون کی حکمرانی کو جامع طور پر آگے بڑھانے کی کوششوں کے گہرے امتزاج اور باہمی تقویت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ چین کے ماحولیاتی قوانین کو باقاعدہ ضابطے کی شکل دینے کے عمل میں بھی ایک نئے مرحلے کی علامت ہے۔
ضابطے میں ماحولیاتی تہذیب کے قیام کے سلسلے میں چین کے کامیاب تجربات، ادارہ جاتی جدتوں اور طرز حکمرانی کے تجربات کو قانونی شکل دی گئی ہے، جس سے انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ اور چینی قوم کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لئے مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ضابطے کا نفاذ اور عملی اطلاق قانون کی حکمرانی کے تحت چینی جدیدکاری کو آگے بڑھانے میں ایک اور اہم سنگ میل ہے، اور یہ چین کے طرزِ حکمرانی کو مزید اعلیٰ سطح تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ضابطہ پوری انسانیت کو درپیش مشترکہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے چینی دانش پیش کرتا ہے اور عالمی ماحولیاتی نظم و نسق کے ساتھ ساتھ ایک صاف ستھری اور خوبصورت دنیا کی مشترکہ تعمیر کے لئے چینی حل فراہم کرتا ہے۔


