سیئول (لارڈ میڈیا): جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو 1953 کی جنگ بندی کو باقاعدہ امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو دھمکانے کی بجائے مستقل امن کی طرف بڑھنا چاہیے۔
صدر لی جے میونگ نے یہ بات جزیرہ نما کوریا کی جاپانی تسلط سے آزادی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کا مقصد 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کا مستقل خاتمہ ہونا چاہیے۔
جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ جنوبی کوریا کشیدگی کم کرنے کے لئے پیشگی اور مستقل اقدامات کرے گا جبکہ تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے متعدد سطحوں پر حفاظتی انتظامات بھی قائم کیے جائیں گے۔
ان کی تازہ اپیل گزشتہ سال کیے گئے اس عزم کی توسیع ہے جس میں انہوں نے شمالی کوریا میں رائج نظام کا احترام اور پیانگ یانگ کے ساتھ پرامن تعلقات کی کوشش کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یاد رہے کہ آزادی کے فوراً بعد ہی دونوں کوریائی ریاستوں کے درمیان جغرافیے اور نظریات کی بنیاد پر اختلافات نے جنم لیا تھا۔ 25 جون 1950 کو شمالی کوریا کی کمیونسٹ افواج کے حملے سے کورین وار شروع ہوئی تھی۔
یہ تنازع جلد ہی ایک بڑی بین الاقوامی جنگ میں بدل گیا جہاں امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے جنوبی کوریا جبکہ کمیونسٹ چین اور سوویت یونین نے شمالی کوریا کی حمایت کی۔ تین سال تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 30 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
شمالی کوریا اس سے قبل بھی صدر لی جے میونگ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر چکا ہے۔ پیانگ یانگ، سیئول کی امریکا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کو اشتعال انگیزی قرار دیتا آیا ہے۔


