کابل (شِنہوا) افغانستان میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 10 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جبکہ انسانی امداد میں کمی کے باعث لاکھوں افراد کی صحت کی خدمات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔
مقامی میڈیا طلوع نیوز نے بتایا کہ سیو دی چلڈرن نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 4 برس کے دوران 5 سال سے کم عمر بچوں میں شدید غذائی قلت میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے 2026 میں تقریباً 37 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فنڈز کی کمی کے باعث تقریباً 600 مراکز صحت بند یا معطل ہو چکے ہیں، جس سے تقریباً 40 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور صحت کی ضروری خدمات تک ان کی رسائی مزید محدود ہو گئی ہے۔


