روم (لارڈ میڈیا) اسرائیل اور لبنان کے درمیان روم میں ہونے والے مذاکرات اکتوبر تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ امریکی حکام نے بتایا کہ یہ فیصلہ یہودی تعطیلات، پیرس میں ہونے والی کانفرنس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیاریوں کے باعث کیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے سفیر آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ میں ملاقات کریں گے، جہاں جون میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد اور تازہ صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔ باقاعدہ مذاکرات کا اگلا دور اکتوبر میں روم میں ہوگا۔
مذاکرات میں تاخیر ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں دوبارہ تیز ہوگئی ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے جاری کوششوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے جنوبی شہر نبطیہ کا اچانک دورہ کیا اور مقامی آبادی سے اظہار یکجہتی کیا۔ ان کے ہمراہ لبنانی فوج کے سربراہ رودولف ہیکل سمیت سکیورٹی حکام بھی موجود تھے۔ عون نے کہا کہ اسرائیلی فوج کا انخلا، قیدیوں اور بے گھر افراد کی واپسی اور علاقے کی تعمیر نو لبنان کے قومی اصول ہیں۔
روم مذاکرات میں تاخیر اور جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون میں طے پانے والے جنگ بندی اور فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کو اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان آئندہ مذاکرات اکتوبر میں ہونے کی توقع ہے۔


