یانگون(شِنہوا)یانگون میں چائنہ کلچرل سینٹر میں تقریباً 200 افراد آمدہ وسط-خزاں تہوار کی مناسبت سے جمع ہوئے جہاں سیاہ روشنائی میں ڈوبے برش کاغذ پر خطاطی کر رہے تھے۔ رواں سال وسط-خزاں تہوار 25 ستمبر کو منایا جائے گا۔
تہوار کی اس تقریب میں شرکا کو چینی روایتی رسم و رواج اور ثقافت سے روشناس ہونے کا موقع ملا، جس میں عملی طور پر خطاطی سیکھنے، بک مارک تیار کرنے، چائے سے لطف اندوز ہونے، مون کیک اور دیگر روایتی تہوار کے کھانوں کا اہتمام کیا گیا۔ دلکش رقص، گانوں اور شاعری نے بھی تہوار کی فضا کو مزید پرجوش بنا دیا۔
میانمار-چائنہ ویمنز ایسوسی ایشن کی صدر لی لی مینت کے لیے وسط-خزاں تہوار محض ایک موسمی تعطیل نہیں بلکہ اتحاد اور خاندان کے دوبارہ مل بیٹھنے کی ایک بامعنی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح پورا چاند اور روایتی مون کیک گول ہوتے ہیں، اسی طرح یہ تہوار خاندانوں کو ایک مکمل دائرے کی مانند یکجا کرتا ہے۔ جو لوگ اپنے گھروں سے دور رہتے ہیں، ان کے لیے چاند کی طرف دیکھنا اپنے والدین، اساتذہ اور دوستوں کی ایک پرخلوص یاد ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھانے تقسیم کرنے اور پورے چاند سے لطف اندوز ہونے کی روایات سے بڑھ کر اس تہوار کی اصل روح اتحاد کے جذبے کو فروغ دینا اور محبت بانٹنا ہے۔
25 سالہ چھاؤ یو مون سو نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے مرکز میں منعقد ہونے والی ثقافتی تقریبات میں شرکت کرتی ہیں اور ان کے خیال میں ایسی سرگرمیاں میانمار کے لوگوں کو چینی روایات سے روشناس ہونے میں مدد دیتی ہیں۔

میانمار کے شہر یانگون میں چائنہ کلچرل سینٹر میں وسط-خزاں کے آمدہ تہوار کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران لوگ چینی خطاطی لکھ رہے ہیں۔(شِنہوا)
انہوں نے کہا کہ میانمار میں پیدا ہونے والے بعض چینی باشندے شاید اپنی ثقافت سے دور ہوں، لیکن وہ یہاں آ سکتے ہیں، تقریب سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور ان سرگرمیوں میں حصہ لے کر اپنی ثقافت کا تجربہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ روایتی روشنائی والے برش سے چینی خطاطی کی مشق کرنا ان کی پسندیدہ سرگرمی تھی۔


