ہومتازہ ترینچینی وفد کی عالمی ادارہ خوراک و زراعت کمیٹی برائے ماہی گیری...

چینی وفد کی عالمی ادارہ خوراک و زراعت کمیٹی برائے ماہی گیری کے 37ویں اجلاس میں شرکت

روم (شِنہوا) ایک چینی وفد نے 7 سے 11 ستمبر تک روم میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی کمیٹی برائے ماہی گیری کے 37ویں اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے دوران چین اور ایف اے او نے مشترکہ طور پر ’’ماہی پروری کی پیداوار میں جدت‘‘ کے عنوان سے ایک ضمنی تقریب کی میزبانی کی جس میں تکنیکی جدت، علاقائی تعاون و ترقی، سرمایہ کاری میں معاونت اور مختلف متعلقہ فریقوں کی شمولیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔

چینی فریق نے ایک کلیدی پریزنٹیشن میں بتایا کہ 2025 میں چین کی ماہی پروری کی پیداوار 6 کروڑ 32 لاکھ 60 ہزار ٹن تک پہنچ گئی جو ملک کی مجموعی آبی مصنوعات کی پیداوار کا 83 فیصد ہے۔ چین نے افزائش نسل اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت، چاول اور مچھلی کی مشترکہ کاشت جیسے نئے ماڈلز، نظرثانی شدہ ماہی گیری قانون کے تحت پائیداری کے مزید سخت تقاضوں اور جنوب-جنوب تعاون کے ذریعے اعلیٰ معیار کی آبی زراعت کو فروغ دیا ہے۔

چین کو ایف اے او کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی تقریب میں بھی شرکت کی دعوت دی گئی جو بندرگاہی ریاست کے اقدامات سے متعلق معاہدے (پی ایس ایم اے) کی 10ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوئی۔ پی ایس ایم اے غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم آئی یو یو ماہی گیری کے خلاف خصوصی طور پر بنایا گیا پہلا بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کا مقصد ایسی سرگرمیوں میں ملوث جہازوں کو بندرگاہوں کے استعمال اور وہاں اپنی پکڑی ہوئی مچھلی اتارنے سے روکنا ہے۔

تقریب سے خطاب کے لئے ماہی گیری کے 7 بڑے ممالک کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا، جن میں چین ایشیا کی جانب سے واحد نمائندہ تھا۔

تقریب میں چینی فریق نے اپریل 2025 میں معاہدے کا فریق بننے کے بعد سے حاصل ہونے والی پیش رفت اور کئے گئے اقدامات کی تفصیلات پیش کیں۔ ان اقدامات میں بندرگاہ میں داخلے کے کنٹرول کو مزید سخت کرنا، پہلے مرحلے میں 23 نامزد بندرگاہوں کا اعلان، جہازوں کے معائنے کو معیاری بنانا، معاہدے پر عملدرآمد کے لئے ایک معلوماتی پلیٹ فارم قائم کرنا اور عملدرآمد سے متعلق تربیت و استعداد کار میں اضافے کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں